نمازی کے سامنے سے گزر جانے کی اجازت۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور سن میرا قریب بلوغ کے تھا اور رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے منیٰ میں تو گزر گیا میں تھوڑا صف کے سامنے سے پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہوگیا بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا۔ امام مالک کو پہنچا سعد بن ابی وقاص صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں۔ ا امام مالک کو پہنچا حضرت علی ؓ سے کہتے تھے نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے تو نماز اس کی نہیں ٹوٹتی۔