مشکوٰۃ المصابیح - مرتدوں اور فساد برپا کرنے والوں کو قتل کردینے کا بیان - 3498
مرتد کسے کہتے ہیں ؟ : " مرتد " اس شخص کو کہتے ہیں جو دین اسلام سے پھر جائے یعنی ایمان واسلام کے نورانی دائرہ سے نکل کر کفر و شرک کے ظلمت کدوں میں چلا جائے۔ مرتد کے بارے میں حکم : جب کوئی مسلمان نعوذ باللہ، اسلام سے پھر جائے تو اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جائے اگر وہ اسلام کے بارے میں کسی شک وشبہ کا شکار ہو تو اس کا شک وشبہ رفع کیا جائے گا، اگرچہ اسلام کی دعوت دینا اور اس کا شک وشبہ دور کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کیونکہ اسلام کی دعوت اس کو پہلے ہی پہنچ چکی ہے اب اس کی تجدید دعوت کی احتیاج نہیں ہے۔ نیز مستحب یہ ہے کہ ایسے شخص کو تین دن کے لئے قید میں ڈال دیا جائے اگر وہ ان تین دنوں میں توبہ کر کے دائرہ اسلام میں لوٹ آئے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے کیونکہ اسلام نے مرتد کی سزا قتل مقرر کی ہے اور بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ اگر وہ مہلت طلب کرے تب واجب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (اقتلوا لمشرکین) (مشرکوں کو قتل کردو) اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد حدیث (من بدل دینہ فاقتلوہ) (جس شخص نے اپنا دین اسلام تبدیل کردیا اس کو قتل کردو) سے یہی ثابت ہوتا کہ مرتد کو مہلت دینا واجب نہیں ہے۔ فساد برپا کرنے والے کون ہیں ؟ حدیث کے دوسرے جزو کا تعلق فساد برپا کرنے والوں سے ہے یوں تو عام طور پر فساد برپا کرنے والے سے وہ لوگ مراد ہوتے ہیں جو زمین پر فتنہ و فساد اور لوٹ مچاتے ہیں اور قتل و غارت گری کے ذریعہ لوگوں کے امن و سکون کو تباہ و برباد کرتے ہیں لیکن یہاں بطور خاص قطاع الطریق یعنی قزاق مراد ہیں کہ ان کی سزا بھی قتل ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ ا یت (انما جزآء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا ) ۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑتے ہیں اور زمین پر فساد برپا کرتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو قتل کردیا جائے، ارتداد اور مرتد کے بارے میں کچھ تفصیلی مسائل و احکام : آج کل ہماری روز مرہ زندگی بڑی بےاعتدالیوں کی شکار ہے نہ ہمیں اپنی زبان پر قابو رہتا ہے، نہ ہم اپنے اعتقادات ونظریات کے دائرہ میں پوری طرح رہتے ہیں اور نہ ہماری افعال و اعمال پابند احتیاط ہوتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی بہت سی باتیں ہماری زبانوں سے نکلتی رہتی ہیں جنہیں ہم بظاہر بالکل غیر اہم سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ باتیں ہمیں کفر کے دائرہ تک پہنچا دیتی ہیں اسی طرح ایسے بہت سے افعال و اعمال ہم سے سرزد ہوتے رہتے ہیں جنہیں ہم بہت معمولی سمجھتے ہیں لیکن آخر کار وہ ہمارے لئے سخت خسران آخرت کا ذریعہ بن جاتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ اس موقع پر اس بارے میں تفصیل کے ساتھ کچھ عرض کیا جائے۔ فتاویٰ عالمگیری کے ایک باب میں مرتد کے احکام و مسائل بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں اس پورے باب کے علاوہ چند نادر الوجود مسائل کو یہاں نقل کیا جاتا ہے اس میں جو مسائل ہیں ان کا جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے تاکہ مرتد کے بارے میں احکام و مسائل ہونے کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ وہ کون سے الفاظ ہیں جو زبان سے ادا ہونے پر کفر تک پہنچا دیتے ہیں یا وہ کون سے عقائد و اعمال ہیں جن کو اختیار کرنے والا کفر تک پہنچ جاتا ہے۔ " مرتد " عرف عام میں اس شخص کو کہتے ہیں جو دین اسلام سے پھر جائے۔ وجود ایمان کے بعد کلمہ کفر کا زبان سے ادا ہونا مرتد ہونے کا رکن ہے اور مرتد کا حکم صحیح ہونے کے لئے عقل کا ہونا شرط ہے لہٰذا مجنوں اور بےعقل بچے پر مرتد کا حکم لگانا صحیح نہیں ہے اور جس شخص پر جنون کی کیفیت مستقل طور پر طاری رہتی ہو تو اس پر مرتد کا حکم اس صورت میں لگے گا جب کہ وہ اپنے صحیح الدماغ ہونے کی حالت میں ارتداد کا مرتکب ہوا، اگر وہ اس وقت ارتداد کا مرتکب ہو جب کہ اس پر جنون کی کیفیت طاری تھی تو اس پر مرتد کا حکم نہیں لگے گا اسی طرح اس شخص پر بھی مرتد کا حکم لگانا صحیح نہیں ہوگا جو ہر وقت نشے کی حالت میں رہتا ہو اور اس کی عقل ماؤف ہوچکی ہو۔ مرتد کا حکم نافذ ہونے کے لئے بالغ ہونا شرط نہیں ہے یعنی یہ ضروی نہیں ہے کہ جو شخص حالت بلوغ میں ارتداد کا مرتکب ہو اسی کو مرتد قرار دیا جائے جب کہ نابالغ پر بھی مرتد کا حکم لگ سکتا ہے اسی طرح مرد ہونا بھی مرتد کے حکم نافذ ہونے کے لئے شرط نہیں بلکہ اگر عورت ارتداد کی مرتکب ہوگی تو اس پر بھی مرتد کا حکم لگے گا۔ مرتد کا حکم نافذ ہونے کے لئے رضا ورغبت شرط ہے لہٰذا اس شخص پر مرتد ہونے کا حکم نافذ نہیں ہوسکتا جس کو مرتد ہوجانے پر مجبور کیا گیا ہو۔ جس شخص کو برسام کی بیماری ہو اس کو کوئی ایسی چیز کھلا دی جائے جس سے اس کی عقل جاتی رہی اور ہزیان بکنے لگے اور پھر اسی حالت میں وہ مرتد ہوجائے تو اس پر مرتد کا حکم نہیں لگایا جائے گا، اسی طرح جو شخص مجنوں ہو یا وسواسی ہو یا کسی بھی قسم کا مغلوب العقل ہو تو اس پر بھی مرتد کا حکم نہیں لگے گا۔ جیسا کہ ابتداء باب میں بیان کیا گیا، جو شخص مرتد ہوجائے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جائے اور اگر اس کو کوئی شک وشبہ ہو تو اسے دور کیا جائے۔ اور پھر جب وہ دائرہ اسلام میں آنا چاہئے تو کلمہ شہادت پڑھے اور مذہب اسلام کے سوا اور سب مذاہب سے بیزاری کا اظہار کرے اور اسی مذہب سے بیزاری کا اظہار کرے جس کے دائرہ میں وہ اسلام کو چھوڑ کر گیا تھا تو یہ بھی کافی ہوگا۔ اور کوئی شخص مرتد ہونے کے بعد پھر اسلام میں لوٹ آئے اور پھر کفر کی طرف لوٹ جائے، اسی طرح تین مرتبہ کرے اور ہر مرتبہ امام وقت سے مہلت چاہے تو امام وقت اس کو تین تین دن کی تینوں مرتبہ تو مہلت دے دے لیکن اگر وہ پھر چوتھی بار کفر کی طرف لوٹے اور مہلت طلب کرے تو اب چوتھی بار امام وقت اس کو مہلت نہ دے بلکہ اگر وہ آخری طور پر دائرہ اسلام میں واپس آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔ اگر کوئی صاحب عقل لڑکا مرتد ہوجائے تو اس کا مرتد ہونا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد کے نزدیک معتبر ہوگا لہٰذا اس کو دائرہ اسلام میں آجانے پر مجبور کیا جائے اور اس کو قتل نہ کیا جائے یہی حکم اس لڑکے کا ہے جو قریب البلوغ ہو۔ صاحب عقل لڑکے سے مراد ایسی عمر کا لڑکا ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ اسلام نجات کا ذریعہ ہے اور وہ اچھے اور برے میں اور میٹھے اور کڑوے میں تمیز کرسکتا ہو۔ بعض حضرات کے نزدیک وہ لڑکا مراد ہے جو سات سال کی عمر کو پہنچ گیا ہو۔ اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائے اس کو قید میں ڈالے رکھا جائے اور ہر تیسرے دن اس کو بطور تنبیہ مارا جائے تاکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کر کے دائر اسلام میں آجائے لیکن اگر کوئی شخص کسی مرتد عورت کو قتل کر دے تو قاتل پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔ کوئی باندی مرتد ہوجائے تو اس کا مالک اس کو اسلام قبول کرنے پر بایں طور مجبور کرے کہ اس کو اپنے گھر میں محبوس کر دے اس سے خدمت لینے کے ساتھ ساتھ سزاءً کچھ دوسرے کام بھی اس کے سپرد کر دے اور وہ مالک اس کے ساتھ صحبت نہ کرے۔ عاقلہ لڑکی کا وہی حکم ہے جو بالغہ کا ہے اسی طرح خنثیٰ مشکل بھی عورت کے حکم میں ہے۔ آزاد عورت جو مرتد ہوجائے اس کو اس وقت تک بطور باندی گرفتار نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ وہ دار الاسلام میں ہے ہاں اگر وہ دار الحرب میں چلی جائے اور پھر وہاں سے وہ (اسلامی لشکر کے) قیدیوں میں آئے تو اس کو باندی بنایا جاسکتا ہے۔ اور امام ابوحنیفہ کے نوادر میں سے ایک قول یہ ہے کہ مرتدہ کو دار الاسلام میں بھی بطور باندی گرفتار کیا جاسکتا ہے چناچہ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر اس قول پر اس عورت کے بارے میں فتویٰ دیا جائے جو خاوند والی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس عورت کا خاوند حکومت وقت سے اس کو باندی بنا لینے کی درخواست کرے یا اگر وہ خاوند اس کا مصرف (یعنی مسلمان) ہو تو حکومت وقت اس عورت کو خاوند کے تئیں ہدیہ کر دے۔ اس صورت میں خاوند اس عورت کو محبوس کرنے اور اسلام کے لئے اس کو سزاءً مارنے کا ذمہ دار ہوگا۔ جب کوئی مرتد اپنے ارتداد سے انکار کر دے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور دین اسلام کی حقاینت کا اقرار کرے تو یہ گویا اس کی طرف سے توبہ کا مظہر ہوگا اور اس صورت میں وہ مسلمان سمجھا جائے گا۔ جب کوئی شخص مرتد ہوجاتا ہے تو اس کے مال سے اس کی ملکیت زائل ہوجاتی ہے لیکن یہ ملکیت کا زائل ہونا موقوف رہتا ہے اگر اس شخص کو توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے اور پھر وہ مسلمان ہوجائے تو اس کی ملکیت بھی واپس آجاتی ہے اور اگر وہ اسی حالت ارتداد میں مرجائے یا اس کو قتل کردیا جائے تو اس کے اس مال کے جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا اس کے مسلمان وارث اور حقدار ہوں گے اور ان کو اس مال کا وہی حصہ ملے گا جو اس زمانہ میں اس کے دین کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچے گا وہ فئی شمار ہوگا۔ یہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا قول ہے، صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک مرتد کی ملکیت زائل نہیں ہوتی۔ مرتد کی میراث پانے والے کے بارے میں حضرت امام ابوحنیفہ کے مختلف اقوال بیان کئے جاتے ہیں، چناچہ حضرت امام محمد نے حضرت امام اعظم سے نقل کیا ہے اور یہی قول زیادہ صحیح ہے کہ جب مرتد مرجائے یا اس کو قتل کردیا جائے اور یا وہ دار الحرب بھاگ جائے تو اس کا مسلمان وارث اس کی میراث پائے گا اسی طرح اس کے مرجانے یا قتل کئے جانے یا دار الحرب بھاگ جانے کے بعد اس کی مسلمان بیوی بھی اس کی مال کی وارث ہوگی بشرطیکہ اس (مرتد کی وفات یا قتل یا دارالحرب بھاگ جانے کے) وقت وہ بیوی عدت میں ہو کیونکہ وہ مرتد اپنے ارتداد کے ذریعہ گویا (اپنی بیوی کو اپنی میراث دینے سے) راہ فرار اختیار کرنے والا ہو لہٰذا اس کا ارتداد مرض الموت کی مانند ہوا (کہ جس طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے مرض الموت میں طلاق مغلظہ دے دے تو شریعت اس امر کے پیش نظر کہ اس کے شوہر نے اس کو اپنی میراث سے محروم رکھنے ہی کے لئے مرض الموت میں طلاق دی ہے اس کو اس کے شوہر کی میراث کی حقدار تسلیم کرتی ہے اسی طرح مرتد بھی اپنے ارتداد کے ذریعہ گویا اپنی بیوی کو اپنی میراث سے محروم رکھنا چاہتا ہے اس لئے شریعت اس کے (علی الرغم) اس کی بیوی کو اس کی میراث کا حقدار تسلیم کرتی ہے، اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو (اس کے مرنے کے بعد) اس کا خاوند اس کی میراث کا حقدار نہیں ہوتا، ہاں اگر بیوی بیماری کی حالت میں مرتد ہوئی (پھر مرگئی) تو اس کا شوہر اس کی میراث پائے گا اسی طرح تمام اقرباء اس کے سارے مال کے وارث ہوں گے یہاں تک کہ اس نے حالت ارتداد میں جو مال جمع کیا ہوگا وہ بھی ان وارثوں کو ملے گا۔ اگر کوئی شخص مرتد ہو کر دار الحرب میں چلا گیا یا حاکم نے اس کے دار الحرب میں چلے جانے کا حکم نافذ کردیا تو اس کا مدبر غلام آزاد ہوجائے گا اور اس کی امہات اولاد بھی آزاد ہوجائیں گی اور اس کے جو دیون مؤ جلہ ہوں گے وہ فوری طور پر قابل ادائیگی ہونگے اور اس نے حالت اسلام میں جو مال پیدا کیا تھا وہ سب اس کے مسلمان ورثاء کی طرف منتقل ہوجائے گا اور اگر کسی مرتد نے اپنے زمانہ اسلام میں کوئی وصیت کی ہوگی تو مبسوط وغیرہ کی ظاہری روایت کے بموجب وہ وصیت مطلقاً باطل ہوگی یعنی اس کی وصیت کا اجراء نہیں ہوگا خواہ وہ اس وصیت کا تعلق کسی قرابت دار سے ہو یا غیر قرابت دار سے۔ مرتد جب تک دار السلام میں گھومتا پھرتا نظر آئے اس کے بارے میں قاضی ان احکام میں سے کوئی بھی حکم نافذ نہ کرے جو ذکر کئے گئے ہیں، جو شخص مرتد ہوجائے، معاملات وعقودات میں اس کے تصرف کرنے کی چار قسمیں ہیں۔ اول تو وہ تصرف ہے جو سب کے نزدیک پوری طرح جاری ونافذ ہوتا ہے جیسے اگر اس کو کوئی چیز ہبہ کی جائے اور وہ اس ہبہ کو قبول کرلے، یا وہ اپنی لونڈی کو ام ولد بنا دے، یا جب اس کی لونڈی کسی بچے کو جنم دے اور وہ مرتد اس بچے کے نسب کا دعوی کرے (یعنی یہ کہے کہ یہ میرا بچہ ہے) تو اس بچہ کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا اور وہ بچہ اس کے دوسرے وارثوں کے ساتھ اس کی میراث کا حقدار ہوگا اور وہ لونڈی (جس کے بطن سے بچہ پیدا ہوا ہے) اس مرتد کی ام ولد ہوگی نیز مرتد کی طرف سے تسلیم شفعہ کو قبول ونافذ کیا جائے گا، اسی طرح اگر مرتد اپنے ماذون غلام پر " حجر " نافذ کرے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ دوسرا تصرف وہ ہے جو بالاتفاق باطل ہوتا ہے یعنی شریعت کی نظر میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا جیسے نکاح کرنا کہ وہ مطلقاً جائز نہیں مفاوضت کرے تو اس کا حکم موقوف (معلق) رہتا ہے کہ اگر وہ مرتد مسلمان ہوگیا تو وہ شرکت مفاوضت بھی نافذ ہوجائے گی اور اگر وہ ارتداد کی حالت میں مرگیا یا اس کو قتل کردیا گیا یا وہ دارالحرب چلا گیا اور قاضی وحاکم نے اس کے دار الحرب چلے جانا کا حکم نافذ کردیا تو اس صورت میں وہ شرکت مفاوضت شروع سے شرکت عنان میں تبدیل ہوجائے گی، یہ صاحبین کا مسلک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک شرکت مفاوضت سرے سے باطل ہی نہیں ہوتی۔ چوتھا تصرف وہ ہے جس کے موقوف رہنے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں جیسے خریدو فروخت کے معاملات اجارہ کرنا، غلام کو آزاد کرنا، مدبر کرنا یا مکاتب کرنا، وصیت کرنا اور قبض دیون وغیرہ، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ ان سب معاملات میں مرتد کے تصرفات موقوف رہتے ہیں اگر وہ اسلام قبول کرے تو نافذ ہوجاتے ہیں اور اگر مرجائے، یا قتل کردیا جائے یا قاضی وحاکم اس کے دار الحرب چلے جانے کا حکم نافذ کر دے تو یہ سارے تصرفات باطل ہوجاتے ہیں۔ ارتداد کے دوران مکاتب کے سارے تصرفات نافذ ہوتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے مرتد غلام یا باندی کو فروخت کرے تو اس کی بیع جائز ہوتی ہے۔ اگر کوئی مرتد اپنے ارتداد سے تائب ہو کر دار الاسلام واپس آجائے اور یہ واپسی قاضی وحاکم کی طرف سے اس کے دار الحرب چلے جانے کے حکم کے نفاذ سے پہلے ہو تو اس کے مال و اسباب کے بارے میں اس کے مرتد ہوجانے کا حکم باطل ہوجاتا ہے اور وہ ایسا ہوجاتا ہے گویا کہ مسلمان ہی تھا اور نہ اس کی کوئی ام ولد آزاد ہوتی ہے اور نہ اس کا کوئی مدبر آزاد ہوتا ہے اور اگر اس کی واپسی قاضی وحاکم کے حکم کے نفاذ کے بعد ہوتی تو وہ اپنے وارثوں کے پاس جو چیز پائے اس کو لے لے اور جو مال و اسباب اس کے وراثوں نے بیع ہبہ اور عتاق وغیرہ کے ذریعہ اپنی ملکیت سے نکال دیا ہے اس کے مطالبہ کا حق اس کو نہیں پہنچے گا اور اپنے وارثوں سے اس کو ایسے مال کا بدلہ و معاوضہ لینے کا حق حاصل ہوگا۔ جو شخص اپنے ماں باپ کی اتباع میں مسلمان تھا (یعنی وہ بچہ تھا اور اپنے مسلمان ماں باپ کی وجہ سے مسلمان کے حکم میں تھا) اور پھر ارتداد کے ساتھ بالغ ہوا تو اگرچہ قیاس کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے مگر اس کے بارے میں از راہ استحسان یہ حکم ہے کہ اس کو قتل نہ کیا جائے (کیونکہ بلوغ سے پہلے وہ مستقل بالذات مسلمان نہیں تھا بلکہ اپنے ماں باپ کی اتباع میں مسلمان کے حکم میں تھا) اسی طرح یہی حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو چھوٹی عمر میں مسلمان ہوگیا تھا مگر جب بالغ ہوا تو مرتد تھا، نیز اگر کسی شخص و زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا اور پھر وہ اسلام سے پھر گیا تو اس کو بھی از راہ استحسان قتل نہ کیا جائے لیکن ان تمام صورتوں میں حکم یہ ہے کہ اس کو اسلام قبول کرلینے پر مجبور کیا جائے اور اگر اسلام قبول کرنے سے پہلے کسی نے اس کو مار ڈالا تو مارنے والے پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔ لقیط (وہ بچہ جو کہیں پڑا ہوا پایا جائے) اگر دار الاسلام میں ہو تو اس کے مسلمان ہونے کا حکم نافذ کیا جائے اور کفر کی حالت میں بالغ ہو تو اس کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے لیکن اس کو قتل نہ کیا جائے۔ یہاں تک تو مرتد کے بارے میں کچھ احکام و مسائل کا ذکر تھا، اب کچھ ان باتوں کو بیان کردینا ضروری ہے جن کا مرتکب کافر ہوجاتا ہے چناچہ ان میں سے بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق ایمان واسلام سے ہے بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات وغیرہ سے ہے، بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق نماز، روزے اور زکوٰۃ سے ہے، بعض باتیں وہ ہے جن کا تعلق علم اور علماء سے ہے بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق حلال و حرام وغیرہ سے ہے، بعض باتیں وہ جن کا تعلق قیامت وغیرہ سے ہے اور بعض باتیں وہ ہیں جن کا تعلق کفر کی تلقین کرنے سے ہے۔ چونکہ یہ ایک طویل سلسلہ ہے اس لئے ان باتوں کو یعنی موجبات کفر کو ترتیب کے ساتھ الگ الگ عنوان کے ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ موجبات کفر جن کا تعلق ایمان واسلام سے ہے ایمان واسلام کے بارے میں وہ باتیں جن کا مرتکب کافر ہوجاتا ہے، یہ ہیں۔ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ " مجھے نہیں معلوم، میرا ایمان ہے یا نہیں ؟ " تو یہ خطائے عظیم ہے، ہاں اور اس بات کا مقصد اپنے شک کی نفی کرنا ہو تو خطائے عظیم نہیں ہے۔ جس شخص نے اپنے ایمان میں شک کیا اور یہ کہا کہ " میں مؤمن ہوں انشاء اللہ " تو وہ کافر ہے ہاں اگر وہ یہ تاویل کرے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اس دنیا سے ایمان کے ساتھ اٹھوں گا یا نہیں ؟ تو اس صورت میں وہ کافر نہیں ہوگا جس شخص نے یہ کہا کہ " قرآن مخلوق ہے، یا ایمان مخلوق ہے " تو وہ کافر ہوگیا۔ جس شخص نے یہ عقیدہ رکھا کہ ایمان وکفر ایک ہیں تو وہ کافر ہے۔ جو شخص ایمان پر راضی و مطمئن نہ ہوا وہ کافر ہے جو شخص اپنے نفس کے کفر پر راضی ہوا وہ کافر ہے اور جو شخص اپنے غیر کے کفر پر راضی ہوا اس کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں اور فتویٰ اس قول پر ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غیر کے کفر پر اس لئے راضی ہوا تاکہ وہ (کافر) ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے تو وہ کافر نہیں ہوگا اور اگر وہ اس کے کفر پر اس لئے راضی ہوا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق میں اس چیز کا اظہار کرے جو اس کی صفات کے لائق نہیں ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ جس شخص نے یہ کہا کہ اسلام کی صفت نہیں جانتا، تو وہ کافر ہوگیا۔ شمس الائمہ حلوائی نے اس مسئلہ کو بڑے سخت انداز میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کہنے والا ایسا شخص ہے جس کے لئے نہ دین ہے، نہ نماز ہے، نہ روزہ، نہ طاعت و عبادت ہے نہ نکاح ہے اور اس کی اولاد زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد ہے۔ ایک مسلمان نے کسی عیسائی لڑکی سے نکاح کیا جس کے ماں باپ بھی عیسائی ہیں اور پھر وہ اس حال میں بڑی ہوئی کہ وہ کسی مذہب اور دین کو نہیں جانتی یعنی نہ تو وہ دین کو دل سے پہنچانتی ہے اور نہ اس کو زبان سے بیان کرسکتی ہے اور وہ دیوانی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان تفریق ہوجائے گی۔ اسی طرح کسی مسلم بچی سے نکاح کیا اور پھر جب وہ حالت عقل میں بالغ ہوئی تو نہ وہ اسلام کو دل سے جانتی پہنچانتی ہے اور اس کو زبان سے بیان کرسکتی ہے اور وہ دیوانی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں بھی اس کے شوہر کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔ اگر کسی عورت سے پوچھا گیا کہ " توحید کیا ہے " اس نے جواب میں کہا " میں نہیں جانتی " تو اس جواب سے اس امر کی مراد اگر یہ ہو کہ مجھے وہ توحید (یعنی کلمہ تو حید) یاد نہیں ہے جو بچے مکتب میں پڑھا کرتے ہیں، تو اس میں اس کا کوئی نقصان نہیں۔ لیکن اگر وہ اس جواب سے یہ مراد رکھتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو نہیں پہنچانتی تو اس صورت میں وہ مؤمنہ نہیں رہے گی اور اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اگر کوئی شخص اس حالت میں مرا کہ وہ یہ نہیں پہنچانتا تھا کہ کوئی میرا خالق ہے، اس کے گھر کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک اور گھر بھی ہے اور یہ کہ ظلم حرام ہے تو وہ مؤمن نہیں تھا۔ ایک شخص گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ (گناہ کے ذریعہ) اپنے اسلام کو ظاہر کرنا چاہئے تو وہ کافر ہے۔ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ میں مسلمان ہوں تو اس نے جواب میں کہا کہ تجھ پر بھی لعنت اور تیری مسلمانی پر بھی لعنت، تو وہ کافر ہوگیا۔ ایک عیسائی نے اسلام قبول کیا، اس کے بعد اس کا (عیسائی) باپ مرگیا، اس نے کہا کہ کاش میں اس وقت مسلمان نہ ہوتا تو اپنے باپ کا مال پا جاتا، وہ کافر ہوگیا۔ ایک عیسائی کسی مسلمان کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ میرے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرو تاکہ میں تمہارے ہاتھ پر اسلام قبول کرلوں اس مسلمان نے جواب دیا کہ " تم فلاں عالم کے پاس چلے جاؤ تاکہ وہ تمہارے سامنے اسلام پیش کرے۔ اور تم اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کرو " اس طرح کہنے والے کے بارے علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ ابوجعفر کہتے ہیں کہ اس طرح کہنے والا کافر نہیں ہوگا۔ ایک کافر نے اسلام قبول کیا تو ایک مسلمان نے اس سے کہا کہ تمہیں اپنے دین میں کیا برائی نظر آئی تھی (جو تم نے اسلام قبول کرلیا ؟ ) یہ کہنے والا کافر ہوجائے گا۔
Top