مشکوٰۃ المصابیح - شراب کی حد کا بیان - 3571
شراب کی حرمت : شراب جس کو ام الخبائث " کہا گیا ہے، بعثت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہی جزوزندگی کا درجہ رکھتی تھی اس لئے بعثت نبوی کے بعد ابتداء اسلام میں بھی اس کا رواج برقرار رہا اور عام طور پر لوگ اس کو پینے پلانے میں مبتلا رہے لیکن اس کی برائی اور اس کے نقصان کی وجہ سے مسلمانوں کے دل میں کھٹک بھی پیدا ہوتی تھی اور حضرت عمر کے قول (انہا تذہب المال وتذہب العقل) (یہ شراب مال کو بھی برباد کرتی اور عقل کو بھی ختم کرتی ہے) کے پیش نظر لوگوں میں یہ احساس تمنا بھی روز بروز بڑھتا جاتا تھا کہ اس کی اباحت جتنی جلد ختم ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے، ادھر چونکہ پوری سوسائٹی اس لعنت میں گرفتار تھی اور ایک ایسی عادت تھی جس کی جڑیں پورے معاشرے میں بہت دور تک پھیلی ہوئی تھیں اس لئے مصلحت شریعت یہ تھیں کہ اس کی حرمت کا نفاذ دفعتًا کرنے کی بجائے بتدریج روبہ عمل میں لایا جائے کہ شریعت کا مقصد بھی پورا ہوجائے اور لوگ اس لعنت سے بھی نجات پاجائیں، چناچہ جب کچھ صحابہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ آیت نازل ہوئی : (يَسْ َ لُوْنَكَ عَنِ الْخَ مْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَا اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْ مُهُمَا اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2 ۔ البقرۃ : 219) " (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور (بظاہر) ان میں لوگوں کے لئے کچھ فائدے ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے فائدوں سے بہت بڑھا ہوا ہے۔ " جو سعید روحیں پہلے ہی سے شراب کے مضر اثرات کا احساس رکھتی تھیں اور جو لوگ اس کی برائی سے طبعًا بیزار تھے ان کے لئے تو بس اتنا ہی کافی تھا کہ قرآن کریم نے " شراب " کو گناہ کہہ دیا لہٰذا انہوں نے شراب نوشی قطعًا ترک کردی، لیکن چونکہ اس آیت میں شراب کی حرمت کا کوئی واضح اور قطعی حکم نہیں ہے اس لئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مے نوشی کا مشغلہ بدستور جاری رکھا۔ اور پھر اس سلسلہ میں یہ دوسری آیت نازل ہوئی : ( يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ ) 4 ۔ النساء : 43) ۔ " اے ایمان والو ! تم ایسی حالت میں نماز کے پاس مت جاؤ کہ تم نشہ کی حالت میں مست ہو، یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ منہ سے کیا کہتے ہو۔ " اس آیت نے شراب نوشی کے جاری مشغلہ پر ایک ضرب لگائی اور نماز کے اوقات میں شراب نوشی بالکل ترک کردی گئی البتہ نماز کے علاوہ اوقات میں بعض لوگوں کے یہاں اب بھی شراب نوشی کا مشغلہ بند نہیں ہوا اور آخر کا ر ٣ ھ میں یہ تیسری آیت نازل ہوئی جس میں حرمت شراب کو واضح کردیا گیا : (يٰ اَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ : 90) " اے ایمان والو ! اس میں شبہ نہیں کہ شراب اور جوا اور بت اور قرعہ کے بیریہ سب گندی چیزیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ " اس آیت کے نازل ہونے کے بعد شراب نوشی بالکل بند ہوگئی، شراب کے مٹکے توڑ ڈالے گئے اور شراب مدینہ کی گلیوں میں پانی کی طرح بہنے لگی اور اس شراب کی حرمت کا حکم نافذ ہوگیا۔ شراب نوشی کی سزا : تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن وسنت کے حکم اور اجماع امت کے مطابق شراب حرام ہے اور جو شخص شراب پئے وہ " حد " (شرعی سزا) کا مستوجب ہے جو جمہور علماء کے قول کے مطابق " اسی ٨٠ کوڑے مارنا " ہے حنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے اور حضرت امام شافعی اور کچھ دوسرے علماء کے قول کے مطابق " چالیس کوڑے مارنا " ہے۔ سزا کا نفاذ : اگر کوئی شخص شراب پئے اگرچہ اس نے ایک ہی قطرہ پی ہو اور پھر اس کو حاکم وقاضی کے سامنے پیش کیا جائے اور اس وقت شراب کی بو موجود ہو یا اس کو نشے کی حالت میں پیش کیا گیا ہو اگرچہ وہ نشہ نبیذ پینے کی وجہ سے ہو اور دو شخص اس کی شراب نوشی کی گواہی دیں یا وہ خود اپنی شراب نوشی کی گواہی دیں یا وہ خود اپنی شراب کا ایک مرتبہ اور امام ابویوسف کے قول کے مطابق دو مرتبہ اقرار کرلے نیز یہ معلوم ہوجائے کہ اس نے اپنی خوشی سے شراب پی ہے کسی کی زبردستی سے نہیں پی ہے تو اس پر حد جاری کی جائے یعنی اگر وہ شخص آزاد ہو تو اس کو اسی ٨٠ کوڑے مارے جائیں اور اگر غلام ہو تو چالیس کوڑے مارے جائیں اور یہ کوڑے اس وقت مارے جائیں جب کہ اس کا نشہ ختم ہوجائے نیز زنا کی حد اور اس حد میں بھی اس طرح کوڑے مارے جائیں کہ بدن کے مختلف حصوں پر چوٹ آئے یعنی پورے کوڑے بدن کے کسی ایک ہی حصہ پر نہ مارے جائیں بلکہ مختلف حصوں پر مارے جائیں۔ اگر کسی شخص نے اپنی شراب نوشی کا اقرار اس وقت کیا جب کہ شراب کی بو ختم ہوگئی ہو یا دو آدمیوں نے کسی کی شراب نوشی کی گواہی اس وقت دی جب کہ بو ختم ہوگئی تو اس پر حد جاری نہ کی جائے اس طرح اگر کسی شخص میں صرف شراب کی بو پائی گئی یا اس نے صرف شراب کی قے کی، یا اس نے پہلے تو اپنی شراب نوشی کا اقرار کیا مگر بعد میں مکر گیا۔ اور یا اس نے نشے کی حالت میں اقرار کیا تو ان صورتوں میں بھی اس پر حد جاری نہ کی جائے۔ واضح رہے کہ جو نشہ حد کو واجب کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ شخص مرد و عورت اور زمین و آسمان کے درمیان امتیاز نہ کرسکے۔ لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کا قول یہ ہے کہ " نشہ " سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص ہزیان اور واہی تباہی باتیں بکنے لگے۔ حنفی مسلک میں فتویٰ اسی قول پر ہے۔
Top