مشکوٰۃ المصابیح - تعزیر کا بیان - 3585
" تعزیر " کی اصل ہے " عزر " جس کے لغوی معنی ہیں منع کرنا، باز رکھنا، ملامت کرنا۔ اصطلاح شریعت میں اس لفظ (تعزیر) کا استعمال اس سزا کے مفہوم میں کیا جاتا ہے جو حد سے کم درجہ کی ہو اور تنبیہ اور تادیب کے طور پر کسی کو دی جائے اور اس سزا کو " تعزیر " اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو اس فعل (گناہ وجرم) کے دوبارہ ارتکاب سے باز رکھتی ہے جس کی وجہ سے اسے وہ سزا (تعز یر) بھگتنی پڑی ہے۔ حد اور تعزیر میں فرق : حد اور تعزیر میں فرق یہ ہے کہ " حد " تو وہ خاص سزا ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اور ساتھ ہی متعین ہے، حاکم کو صرف اس سزا کے نفاذ کا اختیار حاصل ہے اس کو قانون سازی یا اس میں کسی تغیر وتبدل کا حق اس کو حاصل نہیں ہے، اس کے برخلاف " تعزیر " وہ سزا ہے جس کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعین نہیں کیا ہے بلکہ اس کا تعین حاکم کی رائے پر موقوف رکھا گیا ہے کہ وہ موقع ومحل اور اقتضاء وقت وضروت کے مطابق جو سزا چاہئے متعین کرے۔
Top