مشکوٰۃ المصابیح - شراب کی حقیقت اور شراب پینے والے کے بارے میں وعید کا بیان - 3590
اس باب میں ایک تو خمر یعنی شراب کی حقیقت کو بیان کیا جائے گا کہ خمر کس کو کہتے ہیں۔ دوسری چیز یہ بیان ہوگی کہ شراب پینے والے کے بارے میں کس چیز کا خوف ہے اور اس کے حق میں کیا کیا وعیدیں منقول ہیں۔ " خمر کسے کہتے ہیں ؟ قاموس میں لکھا ہے کہ خمر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے استعمال (یعنی جس کو پینے) سے نشہ ومستی پیدا ہوجائے۔ اور وہ انگور کے شیرے کی صورت میں ہو یا عام کہ وہ انگور کا شیرہ ہو یا کسی چیز کا عرق وکاڑھا وغیرہ ہو، زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس کا عام مفہوم مراد لیا جائے) یعنی نشہ لانے والی چیز خواہ وہ انگور کا شیرہ ہو یا کسی دوسری چیز کا شیرہ وغیرہ کیونکہ شراب مدینہ میں حرام ہوئی ہے اور اس زمانہ میں انگور کی شراب کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ وہ کھجور سے بنائی جاتی تھی خمر کیوجہ تسمیہ یہ ہے کہ لغت میں " خمر " کے معنی ہیں " ڈھاپنا " چھپانا، خلط کرنا " اور چونکہ شراب انسان کی عقل کو ڈھانپ دیتی ہے اور اس کے فہم و شعور کی قوتوں کو خلط وخبط کردیتی ہے اس لئے اس کو " خمر " کہا گیا۔ نشہ آور چیزوں کی قسمیں : جو چیزیں نشہ پیدا کرتی ہیں ان کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قسم تو شراب کی ہے جو انگور سے اس طرح بنتی ہے کہ انگور کا عرق نکال کر کسی برتن میں رکھ دیتے ہیں، کچھ دنوں کے بعد وہ گاڑھا ہوجاتا ہے اور اس میں ابال پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ نشہ آور ہوجاتا ہے، صحیح تر اور مختار قول کے مطابق اس میں جھاگ کا پیدا ہونا شرط نہیں ہے اس کو عربی میں " خمر " کہتے ہیں۔ دوسری قسم یہ کہ انگور کے عرق کو قدرے جوش دے کر رکھ دیتے ہیں اس کو عربی میں " باذق " اور فارسی میں " بادہ " کہتے ہیں اور انگور کا وہ عرق جس کو اتنا پکایا جاتا ہے کہ اس کا چوتھائی حصہ جل کر صرف تین چوتھائی حصہ رہ جاتا ہے۔ " طلا " کہلاتا ہے۔ تیسری قسم " نقیع التمر " ہے جس کو " سکر " بھی کہتے ہیں یعنی تر خرما کا وہ شربت جو گاڑھا ہوجائے اور اس میں جھاگ پیدا ہوجائے ، چوتھی قسم " نقیع الزبیب " ہے یعنی منقی اور کشمش وغیرہ کا وہ شربت جس میں ابال اور جھاگ پیدا ہوجائے۔ ان چاروں قسموں میں سے پہلی قسم تو بلا کسی قید کے حرام ہے اور باقی تین قسمیں اس صورت میں بہ اتفاق حرام ہیں جب کہ ان کو جوش دے کر رکھ دیا جائے اور ان میں گاڑھا پن آجائے کیونکہ اس صورت میں ان چیزوں میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے ہاں اگر ان میں مذکورہ چیزیں نہ پائی جائے تو ان کو حرام نہیں کہیں گے مثلًا کچھ دیر کے لئے پانی میں خرما بھگو کر رکھ دیا جائے یہاں تک کہ وہ پانی شربت کی طرح ہوجائے اور اس میں کسی قسم کا کوئی تغیر واقع نہ ہو تو اس کا پینا درست ہوگا۔ ان کے علاوہ پینے کے چار مشروب اور ہیں جن کا پینا امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک حلال ہے بشرطیکہ ان کو معمولی طور پر اس طرح جوش دیا گیا ان میں نشہ پیدا نہ ہوا ہو اور اگر ان میں نشہ پیدا ہوگیا ہو تو یہ قسمیں بھی حرام ہوں گی، اسی طرح اگر ان کو جوش دئیے بغیر کافی عرصہ کے لئے رکھ دیا گیا ان میں جھاگ پیدا ہوگیا تب بھی ان کا پینا حرام ہوگا، ان چاروں میں سے ایک قسم تو " نبیذ " ہے یعنی وہ مشروب جو خرما سے بنایا گیا ہو اور اس کو اس قدر جوش دیا گیا ہو، اگر اس میں گاڑھا پن بھی آگیا ہو تو اس کا پینا جائز ہے۔ دوسری قسم " خلیط " ہے یعنی وہ شربت جو خرما اور منقی کو قدرے جوش دے کر ان سے نکالا گیا ہو۔ تیسری قسم : وہ نبیذ ہے جو شہد، گیہوں، جو اور جوار وغیرہ کو پانی میں قدرے جوش دے کر مشروب کی صورت میں بنائی گئی ہو۔ اور چوتھی قسم مثلث یمنی ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انگور کے عرق کو اتنا پکایا جاتا ہے کہ اس کا وہ حصہ خشک ہوجاتا ہے اور ایک حصہ شراب کی شکل میں باقی رہ جاتا ہے۔ ان چاروں چیزوں کے بارے میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو عبادت کے لئے طاقت حاصل کرنے کی غرض سے پئے تو جائز ہے اور اگر لہو ولعب کے طور پر اور جنسی لذت کے لئے پئے تو حرام ہے لیکن حضرت امام محمد کے نزدیک عبادت کے لئے طاقت حاصل کرنے کی غرض سے بھی ان کا پینا حرام ہے۔ چناچہ حنفی مسلک میں اہل تحقیق کا فتویٰ حضرت امام محمد ہی کے قول پر ہے ، جیسا کہ یمنی شرح کنز میں لکھا ہے کہ " حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد اور حنیفہ میں سے حضرت امام محمد کا قول یہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اور بدمست بنا دیتی ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے خواہ کسی طرح کا نشہ ہو کیونکہ ابن ماجہ اور دارقطنی کے مطابق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو چیز نشہ آور ہو وہ شراب ہے اور ساری نشہ آور چیزیں حرام ہیں، لہٰذا حنفیہ مسلک میں فتویٰ امام محمد کے قول پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر نشہ آور چیز " شراب " ہے اور حرام ہے خواہ وہ " مشروب " کی صورت میں ہو اور انگور یا کھجور یا منقی یا شہد سے بنے یا گیہوں، جو، باجرہ یا جوار سے بنے اور خواہ وہ کسی درخت کا عرق ہو جیسے تاڑی وغیرہ یا کوئی گھاس ہو بھنگ وغیرہ اسی طرح وہ ہر مقدار میں حرام ہے خواہ تھوڑی ہو یا بہت ہو، نیز اگر کوئی شخص نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے تو مفتی بہ قول کے مطابق اس کی طلاق واقع ہوجائے خواہ شراب کا نشہ ہو یا نبیذ وغیرہ کا۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل اور حنفیہ میں سے حضرت امام محمد نیز محدثین کرام کا مسلک یہ ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے خواہ تھوڑی ہو یا بہت ہو اور اگرچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک وہ مشروب نجس و حرام اور شراب کے حکم میں ہے جب میں ابال، گاڑھا اور جھاگ پیدا ہوگیا ہو، اس کے علاوہ اور چیزیں جب تک کہ ان میں نشہ نہ ہو حرام نہیں ہے۔ لیکن حنفی مسلک کے احتیاط پسند مصنفین کے ہاں فتویٰ حضرت امام محمد ہی کے قول پر ہے جیسا کہ نہایہ، عینی، دیلمی، درمختار، الاشباہ والنظائر، فتاوٰی عالمگیری، فتاویٰ حمادیہ اور شرح مواہب الرحمن میں مذکور ہے بلکہ شرح وہبانیہ وغیرہ میں تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا قول بھی حضرت امام محمد کے مطابق ہی منقول ہے اس صورت میں یہ مسئلہ تمام آئمہ ومجتہدین کا متفقہ ہوجاتا ہے، چناچہ حضرت مولانا عبد العلی لکھنوی نے ایک استفتاء کے جواب میں تاڑی اور نان پاؤ (ایک قسم کی خمیری روٹی) کی حرمت کو ظاہر کرتے ہوئے اس مسئلہ پر بڑی تحقیق و تفصیل اور وضاحت کے ساتھ لکھا ہے اور تیس چالیس حنفی و شافعی علماء نے اپنی تصدیق کی مہریں ثبت کی ہیں۔ نشہ آور چیزوں میں ایک قسم کی بھنگ نشہ لانے والی گھاس اور جڑی بوٹیاں اور افیون ہیں کہ ان کو کھانا پینا بھی حرام ہے کیونکہ یہ چیزیں بھی انسان کی عقل کو تباہ کرتی ہیں اور ذکر اللہ و نماز وغیرہ سے باز رکھتی ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص بھنگ وغیرہ کو حلال جانے وہ زندیق وبدعتی ہے، بلکہ فقیہ نجم الدین زاہدی نے تو ایسے شخص پر کفر کا حکم لگایا ہے اور اس کو قتل کردینا مباح جانا ہے۔ اسی طرح تمباکو بھی حرام ہے جیسا کہ درمختار میں لکھا ہے اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے حقہ نوشی کو مکروہ تنزیہی کہا ہے کیونکہ حقہ پینے والے کے منہ سے پیاز و لہسن کے مانند بدبو ہی نہیں بلکہ اس میں ایک طرح سے دوزخیوں کی مشابہت بھی ہے۔ کہ جس طرح دوزخیوں کو منہ سے دھواں نکلے گا اسی طرح حقہ پینے والے کے منہ سے بھی دھواں نکلتا ہے، علاوہ ازیں حقہ نوشی ایک ایسی عادت ہے جس کو سلیم طبع، مکروہ جانتی ہے اور حقہ پینے سے بدن میں بہت زیادہ سستی پیدا ہوجاتی ہے اور بعضوں پر غشی بھی طاری ہوتی ہے اور یہ چیز " مفتر " میں داخل ہے اور ایک روایت کے مطابق جس کو حضرت امام احمد وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ جو چیز مفتر یعنی سستی پیدا کرنے والی ہو وہ حرام ہے۔ صاحب صراح اور صحاح نے " مفتر " کے معنی سستی پیدا کرنے والا " لکھا ہے اور حضرت امام ابوالقاسم حسین ابن محمد ابن مفضل راغب نے اپنی کتاب " مفردات القرآن " میں " فتر " اور فتور " کے معنی یہ لکھے ہیں کہ " تیزی کے بعد تھم جانا، شدت (چشتی) کے بعد نرم (صحت کے کمزور ہوجانا " چناچہ یہ معنی حقہ پینے والے پر صادق آتے ہیں۔ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ مفتر کے معنی میں " بدن کا گرم ہوجانا " بھی داخل ہے تو یہ شاذ معنی ہے جو اکثر علماء لغت کی تحقیق کے خلاف ہے یا اس سے " اندر کی گرمی " مراد ہے۔ بہر حال حقہ نوشی حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی سے بعید ہے کیونکہ حقہ، مسواک کی سنت کے منافی ہے بایں وجہ کہ مسواک منہ کو بدبو سے پاک کرتی ہے جب حقہ منہ کو بدبودار بناتا ہے اور مسواک کے بارے میں یہ حدیث صحاح وغیرہ میں منقول ہے کہ : (السواک مطہرۃ للفم ومرضات للرب) ۔ " مسواک منہ کی صفائی و پاکیزگی کا ذریعہ اور حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا سبب ہے۔ "
Top