سنن النسائی - - حدیث نمبر 2108
وعن أبي هريرة قال : كان يعرض على النبي صلى الله عليه و سلم القرآن كل عام مرة فعرض عليه مرتين في العام الذي قبض وكان يعتكف كل عام عشرا فاعتكف عشرين في العام الذي قبض . رواه البخاري
منہ پر مارنے یا منہ کو داغنے کی ممانعت
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے منہ پر مارنے اور منہ پر داغ دینے سے منع فرمایا ہے یعنی کسی آدمی یا جانور کے منہ پر طمانچہ یا کوڑا وغیرہ نہ مارا جائے اور نہ کسی کے منہ پر داغ دیا جائے۔ ( مسلم )
Top