مشکوٰۃ المصابیح - قیدیوں کے احکام کا بیان - 3874
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل " . وفي رواية : " يقادون إلى الجنة بالسلاسل " . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " اللہ اس قوم پر تعجب کرتا ہے یعنی ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو زنجیروں میں بندھے ہوئے جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ " اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے) جو زنجیروں میں باندھ کر جنت کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔ " (بخاری)

تشریح
: مطلب یہ ہے کہ کفار (دشمن) کے جو لوگ جہاد وغیرہ کے موقع پر قیدی بنائے جاتے ہیں اور ان کو زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر دارالاسلام میں لایا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو ایمان نصیب فرماتا ہے تو ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا اس اعتبار سے اگرچہ ان کے دخول جنت کا سبب ان کا ایمان قبول کرلینا ہے لیکن ظاہر میں گویا وہ زنجیروں اور بیڑیوں میں باندھ کر جنت میں داخل کئے گئے ہیں۔
Top