مشکوٰۃ المصابیح - نکاح کے ولی اور عورت سے نکاح کی اجازت لینے کا بیان - حدیث نمبر 1182
یہودیوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینے کا بیان
جزیرۃ اصل میں زمین و خشکی کے اس قطعہ کو کہتے ہیں جس کو چاروں طرف سے پانی نے گھیر رکھا ہو اور جزیرۃ العرب اس علا قے کو کہتے ہیں جس کو بحر ہند، بحر شام اور دجلہ و فرات نے گھیر رکھا ہے، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ جزیرۃ العرب کا اطلاق عرب دنیا کے اس خطہ ارض پر ہوتا ہے جو لمبائی میں عدن سے شام کی سرحد تک اور چوڑائی میں جدہ سے ریف عراق تک پر مشتمل ہے۔
Top