مشکوٰۃ المصابیح - جزیہ کا بیان - 3936
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لا تصلح قبلتان في أرض واحدة وليس على المسلم جزية " . رواه أحمد والترمذي وأبو داود
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہونے چاہئیں اور مسلمان پر جزیہ عائد نہیں ہوسکتا۔ " ( احمد، ترمذی ابوداد ' د)

تشریح
: " ایک زمین میں دو قبلے " کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک علاقے میں دو مذہب برادری کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیئں۔ گویا اس کے ذریعہ مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ کافروں یعنی اپنے دین کے دشمنوں کے درمیان دارالحرب میں سکونت اختیار نہ کریں اور نہ اس کے ذر یعہ اپنے آپ کو ذلیل و رسوا کریں۔ اسی طرح اسلامی ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنی حدود میں کافروں یعنی دشمنان دین کو بغیر جزیہ کے سکونت اختیار نہ کرنے دے اور ان کے جزیہ دینے کی صورت میں ان کو اس طرح سر اٹھانے کا موقع نہ دے وہ علی الاعلان اسلامی ریاست کے بنیادی اصول و قوانین اور دینی عقائد و نظریات کے خلاف امور انجام دیں اور یہ آگاہی اس حقیقت کے پیش نظر ہے کہ ان دونوں ہی صورتوں میں دین اسلام اور کفر دونوں کا مساوی ہوجا نا لازم آتا ہے جب کہ اسلام کی نظر میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ اسلام اس امر کا متقاضی ہوتا ہے کہ مسلمان جہاں بھی رہیں، قوت و شوکت اور عزت و رفعت کے مقام پر ہوں اور اسلام دشمن عنا صر ضعیف و کمزور اور بےوقعت رہیں۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردینے کی طرف اشارہ ہے جو اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل قبلہ بھی ہیں اور ان دونوں کا الگ الگ قبلہ ہے جو اہل اسلام کے قبلہ کے خلاف ہے، تاکہ اس علا قہ میں دو قبلوں کو ماننے والوں کا وجود نہ رہے بلکہ صرف ایک قبلہ حقیقی کو ماننے والے یعنی مسلمان ہی رہیں۔ " مسلمان پر جزیہ عائد نہیں ہوسکتا۔ " میں اس صورت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مثلاً کوئی غیر مسلم، ذمی ہونے کی حیثیت میں اسلامی ریاست کا شہری بنا لیکن وہ جزیہ ادا کرنے سے پہلے مسلمان ہوگیا تو اب اس سے جزیہ کا مطالبہ نہ کیا جائے کیونکہ وہ مسلمان ہے اور مسلمان پر جزیہ عائد نہیں ہوتا۔
Top