مشکوٰۃ المصابیح - نکاح کے ولی اور عورت سے نکاح کی اجازت لینے کا بیان - 3153
ولی لغوی طور پر کا رساز منتظم کو کہتے ہیں یعنی وہ شخص جو کسی کام کا منتظم ہو لیکن یہاں ولی سے مراد وہ شخص ہے جو کسی عورت کے نکاح کا متولی و ذمہ دار ہوتا ہے، بایں طور کہ اس عورت کے نکاح کا اختیار اسے حاصل ہوتا ہے۔ اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے یہ معلوم ہوگا کہ نکاح کے بارے میں ولی کی اجازت کا حاصل ہونا اور عورت کی رضا معلوم کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ ولایت یعنی کسی کے ولی ہونے کا حق کن کن لوگوں کو حاصل ہے چناچہ جاننا چاہئے کہ نکاح کے سلسلہ میں ولایت کے اختیار اس کے ان رشتہ دار کو حاصل ہوتے ہیں جو عصبہ بنفسہ ہوں اگر کئی عصبات بنفسہ ہوں تو ان میں مقدم وہ ہوگا جو وراثت میں مقدم ہو گویا اس بارے میں عصبات کی وہ ترتیب رہے گی جو وراثت میں ہوتی ہے اگر عصبات بنفسہ میں کوئی نہ ہو تو ماں کو ولایت حاصل ہوگی پھر دادی کو ( قنیہ میں اس کے برعکس ترتیب مذکور ہے) پھر بیٹی کو پھر پوتی کو پھر نواسی کو پھر پوتے کی بیٹی کو اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو پھر نانا کو ولایت حاصل ہوگی پھر حقیقی بہن کو پھر سوتیلی بہن کو پھر ماں کی اولاد کو ( خواہ مرد یا عورت ہوں) پھر اسی ترتیب کے مطابق ان کی اولاد کو اور اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر ذوی الارحام کو حاصل ہوگی ذوی الارحام میں سب سے پہلے پھوپھیاں ولی ہوں گی ان کے بعد ماموں ان کے بعد خالائیں ان کے بعد چچا کی بیٹیاں اور ان کے بعد اسی ترتیب کے مطابق ان کی اولاد اور اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو حق ولایت مولیٰ الموالات کو حاصل ہوگا مولیٰ الموالات کے معنی باب الفرائض میں بیان ہوچکے ہیں) اگر مولیٰ الموالات بھی نہ ہو تو پھر بادشاہ وقت ولی ہوگا بشرطیکہ وہ مسلمان ہو اس کے بعد بادشاہ وقت کا کوئی نائب مثلًا قاضی بھی ولی ہوسکتا ہے بشرطیکہ بادشاہ کی طرف سے اس کو یہ اختیار دیا گیا ہو اس کے بعد قاضی کے نائبوں کو حق ولایت حاصل ہوگا بشرطیکہ اپنا نائب بنانے کی اجازت واختیار قاضی کو حاصل ہو اگر قاضی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہوگی تو پھر اس کا کوئی بھی نائب ولی نہیں ہو سکے گا۔ ولایت کا حق حاصل ہونے کے لئے آزاد ہونا عاقل ہونا بالغ ہونا اور مسلمان ہونا شرط ہے لہذا کوئی غلام کسی کا ولی نہیں ہوسکتا کوئی نابالغ کسی کا ولی نہیں ہوسکتا، کوئی دیوانہ کسی کا ولی نہیں ہوسکتا اور پاگل کسی کا ولی نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی کافر کسی مسلمان کا ولی ہوسکتا ہے، اسی طرح کوئی مسلمان بھی کی کافر کا ولی نہیں ہوسکتا الاّ یہ کہ عام سبب پایا جائے جیسے کوئی مسلمان کسی کافرہ لونڈی کا آقا ہو یا مسلمان بادشاہ یا بادشاہ کا نائب ہو تو اس صورت میں مسلمان کافر کا ولی ہوسکتا ہے۔
Top