مشکوٰۃ المصابیح - میت پر رونے کا بیان - 1705
کسی عزیز و رشتہ دار اور دوست و متعلق شخص کی دائمی جدائی پر رنج و غم اور حسرت و افسوس کا ہونا ایک فطری بات ہے مرنے والا جتنا زیادہ قریب اور عزیز ہوگا۔ رنج و غم کی گھٹائیں اتنی ہی مہیب ہوں گی یہ ناممکن ہے کہ اپنے عزیز و متعلقین میں سے کسی کا انتقال ہوجائے اور دل روئے نہیں، آنکھیں آنسو بہائیں نہیں اور چہرہ رنج و الم اور حسرت و غم کی تصویر نہ بن جائے پھر اس فطری رنج و غم کا دوسرا رخ اظہار غم بھی ہے آنسو بہاتی آنکھیں اس کیفیت کا اظہار کرتی ہیں جو دل پر احساس جدائی کی سیاہ چادر تان دیتی ہے اور چہرہ رنج و غم کی برستی ہوئی گھٹا ان جذبات کی غمازی کرتی ہے جو رگ رگ میں دائمی فراق کی چنگاریاں بھر دیتے ہیں اسلام نے چونکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اعتدال کی راہ دکھائی ہے اور پیغمبر اسلام نے کیا خوشی اور کیا غم ہر مرحلہ پر انسانی وقار اور رکھ رکھاؤ کا معیار برقرار رکھا ہے اس لئے کیسے ممکن تھا کہ انسانی برادری کے اس جذباتی و فطری نازک موڑ پر راہنمائی نہ کی جاتی لہٰذا یہاں یہ باب قائم کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس مرحلہ پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مقدس تعلیم اور آپ کا عمل کیا تھا ؟
Top