مشکوٰۃ المصابیح - جن لوگوں کو زکوۃ کا مال لینا اور کھانا حلال نہیں ہے ان کا بیان - 1816
اس باب کے تحت وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ زکوٰۃ کا مال کن لوگوں کو لینا اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، چونکہ اس باب سے متعلق بہت زیادہ مسائل ہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے ان تمام مسائل کو تفصیلی طور پر نمبر وار نقل کردیا جائے۔ (١) جو شخص صاحب نصاب ہو اور اس پر زکوٰۃ واجب ہو تو وہ زکوٰۃ کا مال اپنی اصل کو نہ دے یعنی ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور ان سے اوپر کے بزرگوں کو خواہ وہ باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے ان میں سے کسی کو زکوٰۃ دینا درست اور جائز نہیں ہے اسی طرح اپنی فرع یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی، نواسا، نواسی اور ان کی اولاد میں سے کسی کو بھی زکوٰۃ کا مال دینا درست نہیں ہے امام اعظم (رح) کے قول کے مطابق شوہر، بیوی کو اور بیوی شوہر کو زکوٰۃ نہ دے، مگر صاحبین کا قول یہ ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ دے تو درست ہے، ان کے علاوہ بقیہ رشتہ داروں کو زکوٰۃ کا مال دینا درست ہے بشرطیکہ وہ زکوٰۃ کے مستحق ہوں، یعنی غنی سید، ہاشمی اور کافر نہ ہوں بلکہ غیروں کے مقابلہ میں اپنے رشتہ داروں کو دینا بہتر ہے، اس بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ اگر زکوٰۃ اس ترتیب سے دی جائے تو بہت اچھا ہے کہ پہلے بہن، بھائی کو دے ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر چچا اور پھوپھی کو، ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر ماموں خالہ کو، ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر ان لوگوں کو جو ذوی الارحام ہوں پھر اپنے اجنبی ہمسایہ اور پڑوسی کو، پھر اپنے ہم پیشہ کو اور پھر اپنے ہم وطن کو یہی حکم صدقہ فطر اور نذر کا ہے کہ مذکورہ بالا ترتیب سے دینا افضل ہے، ویسے اگر کوئی شخص غیر اور اجنبی کو دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر بہتر اور افضل یہی ہے کہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو مقدم رکھا جائے۔ (٢) اپنے غلام اور اپنی لونڈی کو زکوٰۃ دینی درست نہیں ہے، یہی حکم ام ولد یعنی اس لونڈی کا ہے جس کے اپنے مالک سے کوئی اولاد ہو کہ اس کا مالک اسے بھی زکوٰۃ نہ دے۔ (٣) سسرالی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینی درست ہے مثلا ساس سسر، سالا، سالی یا جن لوگوں سے ان کی وجہ سے رشتہ دار ہو اسی طرح داماد اور بہو کو زکوٰۃ دینی درست ہے، نیز سوتیلی ماں، سوتیلی نانی کو بھی زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے۔ (٤) زکوٰۃ کا مال " غنی " کو دینا درست نہیں ہے، غنی اس شخص کو کہتے ہیں جو بقدر نصاب مال کا مالک ہو مال خواہ نامی ہو غیر نامی۔ نامی مال اس مال کو کہتے ہیں جس میں اضافہ اور بڑھوتری ہوتی ہے جیسے مال تجارت، نقد روپیہ سونا چاندی اور سونے چاندی کے زیورات یہ مال شرعی قاعدہ کے مطابق نامی ہیں یعنی بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسی طرح ایسے مویشی اور جانور بھی حقیقۃً نامی مال ہیں جو تجارت یا افزائش نسل کے لئے ہوں۔ " غیرنامی مال " اس مال کو کہتے ہیں جس میں اضافہ اور بڑھوتری نہ ہوتی ہو جیسے حویلی و مکانات، کپڑے اور برتن وغیرہ یہ چیزیں بھی اگر ضرورت اصلیہ سے زائد ہوں اور بقدر نصاب ہوں، نیز قرض سے محفوظ ہوں تو بھی زکوٰۃ لینا درست نہیں ہے۔ رہائش کا مکان استعمال کے کپڑے، کھانے پکانے کے برتن، اہل علم کی لکھنے پڑھنے کی کتابیں لڑنے والے ہتھیار و اسلحے اور کاریگروں کے اوزار۔ یہ وہ اشیاء ہیں جنہیں ضرورت اصلیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ (٥) ہاشمی کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے پانچ لوگوں کی اولاد کو ہاشمی کہتے ہیں، اول حضرت علی (رض) کی اولاد خواہ حضرت فاطمہ زہراء کے بطن مبارک سے ہو یا دوسری بیویوں سے، دوم حضرت جعفر کی اولاد، سوم حضرت عقیل کی اولاد، چہارم حضرت عباس کی اولاد اور پنجم حارث بن عبدالمطلب کی اولاد ان پانچوں کے سلسہ نسب سے تعلق رکھنے والے ہاشمی کہلاتے ہیں۔ ان کے غلام اور لونڈی کو بھی زکوٰۃ دینی جائز نہیں ہے اسی طرح اگر ان کے غلام لونڈی آزاد ہوگئے ہوں تب بھی انہیں زکوٰۃ کا مال لینا اور کھانا جائز نہیں۔ (٦) کافر کو زکوٰۃ کا مال دینا درست نہیں ہے خواہ حربی ہو یا ذمی۔ (٧) اگر کسی شخص نے غنی یا کافر یا اپنے باپ یا اپنے بیٹے یا اپنی بیوی کو مستحق زکوٰۃ سمجھ کر زکوٰۃ کا مال دے دیا یعنی زکوٰۃ دیتے وقت اسے معلوم نہیں ہو کہ یہ ہاشمی ہے یا کافر ہے یا اپنا باپ یا بیٹا ہے یا اپنی بیوی ہے پھر زکوٰۃ دینے کے بعد اسے حقیقت معلوم ہوئی تو اس کے ذمہ سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اب دوبارہ زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ (٨) مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے یا کسی میت کے کفن کے لئے اور یا میت کے قرض کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے اگر کسی شخص نے ان میں سے کسی بھی کام کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ مستحقین زکوۃ۔ زکوٰۃ کے مستحق فقیر ہیں اور اصطلاح شریعت میں " فقیر " اس شخص کو کہتے ہیں جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو مساکین بھی مستحق زکوٰۃ ہیں۔ مساکین ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ وہ شخص بھی زکوٰۃ کا مستحق ہے جو حاکم وقت کی طرف سے لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہو اگرچہ وہ خود بھی غنی کیوں نہ ہو برسبیل تذکرہ یہ بھی جان لیجئے کہ " ہاشمی " کے لئے وہ تنخواہ بھی جائز نہیں ہے جو زکوٰۃ وصول کرنے والے کو ملتی ہے وہ لوگ بھی زکوٰۃ کے مستحق ہیں جو جہاد یا سفر حج کے مسافر ہوں اور ان کے پاس روپیہ پیسہ نہ رہا ہو اگرچہ ان کے وطن میں ان کا کتنا ہی زیادہ روپیہ پیسہ کیوں نہ موجود ہو۔ اسی طرح دوسرے مسافروں کا بھی زکوٰۃ کا مال دینا درست ہے خواہ کسی مسافر کا اپنے وطن میں کتنا ہی مال و زر کیوں نہ ہو لیکن آخر میں اتنی بات جان لیجئے جس شخص کو ایک دن بقدر بھی اسباب زندگی میسر ہوں اس کے لئے دس سوال دراز کرنا بالکل درست نہیں۔ (مولانا اسحق دہلوی)
Top