مشکوٰۃ المصابیح - جن لوگوں کو سوال کرنا جائز کرنا جائز ہے اور جن کو جائز نہیں ہے ان کا بیان - 1831
علماء لکھتے ہیں کہ جس شخص کے پاس ایک دن کے بقدر بھی غذا اور ستر چھپانے کے بقدر کپڑا ہو تو اسے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بغیر ضرورت و حاجت مانگنا حرام ہے ہاں جس شخص کے پاس ایک دن کی بھی غذا اور ستر چھپانے کے بقدر بھی کپڑا نہ ہو تو اس کے لئے دست سوال دراز کرنا حلال ہے جو محتاج و فقیر ایک دن کی غذا کا مالک ہو اور وہ کمانے کی قدرت رکھتا ہو تو اس کے لئے زکوٰۃ لینا تو حلال ہے مگر لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنا حرام ہے جس مسکین و محتاج کو ایک دن کی غذا بھی میسر نہ ہو اور وہ کمانے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے۔ نووی (رح) نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بغیر ضرورت و احتیاج لوگوں سے مانگنا ممنوع ہے البتہ جو شخص کمانے کی قدرت رکھتا ہو اس کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں۔ چناچہ زیادۃ صحیح قول تو یہ ہے کہ ایسے شخص کہ جو کما کر اپنا گزارہ کرسکتا ہو لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنا حرام ہے لیکن بعض حضرات مکروہ کہتے ہیں وہ بھی تین شرطوں کے ساتھ۔ اول یہ کہ دست سوال دراز کر کے اپنے آپ کو ذلیل نہ ہونے دے، دوم الحاح یعنی مانگنے میں مبالغہ سے کام نہ لے، سوم یہ کہ جس شخص کے آگے دست سوال دراز کر رہا ہے اسے تکلیف و ایذاء نہ پہنچائے اگر ان تین شرطوں میں سے ایک بھی پوری نہ ہو تو پھر سوال کرنا بالاتفاق حرام ہوگا۔ ابن مبارک (رح) سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا جو سائل " لوجہ اللہ " کہہ کر سوال کرے تو مجھے اچھا نہیں لگتا کہ اسے کچھ دیا جائے کیونکہ دنیا اور دنیا کی چیزیں کمتر و حقیر ہیں، جب اس نے دنیا کی کسی چیز کے لئے لوجہ اللہ کہہ کر سوال کیا تو گویا اس نے اس چیز (یعنی دنیا) کی تعظیم و توقیر کی جسے اللہ تعالیٰ نے کمتر و حقیر قرار دیا ہے لہٰذا ایسے شخص کو از راہ زجر و تنبیہ کچھ نہ دیا جائے اور اگر کوئی شخص یہ کہہ کر سوال کرے کہ بحق اللہ یا بحق محمد دو ، تو اسے کچھ دینا واجب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اپنی کوئی غلط اور جھوٹی حاجت و ضرورت ظاہر کر کے کسی سے کوئی چیز لے تو وہ اس چیز کا مالک نہیں ہوتا (گویا وہ چیز اس کے حق میں ناجائز و حرام ہوتی ہے) اسی طرح کوئی شخص کسی سے یہ کہے کہ میں سید ہوں اور مجھے فلاں چیز کی یا اتنے روپیہ کی ضرورت ہے اور وہ شخص سائل کو سید سمجھ کر اس کا سوال پورا کر دے مگر حقیقت میں وہ سید نہ ہو تو وہ بھی اس مانگی ہوئی چیز کا مالک نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں وہ چیز اس کے حق میں ناجائز و حرام ہوتی ہے۔ ایسے ہی اگر کوئی شخص کسی سائل کو نیک بخت صالح سمجھ کر کوئی چیز دے دے حالانکہ وہ سائل باطنی طور پر ایسا گنہگار ہے کہ اگر دینے والے کو اس کے گناہ کا پتہ چل جاتا تو اسے وہ چیز نہ دیتا تو اس صورت میں سائل اس چیز کا مالک نہیں ہوتا وہ چیز اس کے لئے حرام ہے اور اس چیز کو اس کے مالک کو واپس کردینا اس پر واجب ہوگا اگر کوئی شخص کسی کو اس کی بدزبانی یا اس کی چغل خوری کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے کوئی چیز دے تو وہ چیز اس کے حق میں حرام ہوگی۔ اگر کوئی فقیر کسی شخص کے پاس مانگنے کے لئے آئے اور وہ اس کے ہاتھ پیر چومے تاکہ وہ اس کی وجہ سے اس کا سوال پورا کر دے تو یہ مکروہ ہے بلکہ اس شخص کو چاہئے کہ وہ فقیر کو ہاتھ پیر نہ چومنے دے۔ ان سائل اور فقیروں کو کچھ بھی نہ دینا چاہئے جو نقارہ، ڈھول یا ہار مونیم وغیرہ بجاتے ہوئے دروازوں پر مانگتے پھرتے ہیں اور مطرب یعنی ڈوم تو سب سے بدتر ہے۔
Top