مشکوٰۃ المصابیح - خرچ کرنے کی فضیلت اور بخل کی کراہت کا بیان - 1855
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لو كان لي مثل أحد ذهبا لسرني أن لا يمر علي ثلاث ليال وعندي منه شيء إلا شيء أرصده لدين " . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا تو مجھے یہ گوارا نہ ہوتا کہ تین راتیں گزر جاتیں اور وہ تمام سونا یا اس کا کچھ حصہ علاوہ بقدر ادائے قرض کے میرے پاس موجود رہتا۔ (بخاری)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا تو میرے لئے سب سے زیادہ پسندیدہ بات یہ ہوتی کہ میں تمام سونا تین رات کے اندر اندر ہی لوگوں میں تقسیم کردیتا، اس میں سے اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھتا ہاں اتنا سونا ضرور بچا لیتا جس سے میں اپنا قرض ادا کرسکتا کیونکہ قرض ادا کرنا صدقہ سے مقدم ہے۔ اس ارشاد گرامی سے جہاں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انتہائی سخاوت فیاضی کا وصف سامنے آتا ہے وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ اپنے مال و زر کی خیرات نکالتے ہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اپنی آسائش و راحت کے ذرائع مہیا کرتے ہیں۔ مثلاً عالیشان بلڈنگیں بناتے ہیں کوٹھیاں تعمیر کرتے ہیں یا اسی قسم کی دوسرا آسائش زندگی کے لئے بےتحاشا مال خرچ کرتے ہیں مگر ان کے اوپر دوسرے لوگوں کے حقوق ہوتے ہیں وہ ان کے حقوق کی ادائیگی تو کیا کرتے ان کی طرف ان کا دھیان بھی کبھی نہیں جاتا تو یہ کوئی اچھی اور پسندیدہ بات نہیں ہے بلکہ شرعی طور پر انتہائی غلط ہے۔ شریعت و اخلاق ہی نہیں بلکہ محض عقل و دانش اور انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے بھی کیا یہ بات گوارا کی جاسکتی ہے کہ ایک شخص تو دولت و حرص و ہوس کا پتلا بن کر اپنی تجوریاں بھرے بیٹھا ہوا بےمصرف مال و زر کے انبار لگائے ہوئے ہو اور سونے چاندی کے خزانے جمع کئے مگر ایک دوسرا شخص اس کے آنکھوں کے سامنے نان جویں کے لئے بھی محتاج ہوا ور اس کی تجوری کا منہ نہ کھلے، ایک غریب بھوک و افلاس کے مارے دم توڑ رہا ہو مگر اس کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہ ہو کہ اس غریب کو کھانا کھلا کر اس کی زندگی کے چراغ کو بجھنے سے بچائے ؟ جی ہاں ! آج کے اس دور میں بھی جب کہ سوشلزم، مساوات اور انسانی بھائی چارگی و ہمدردی کے نعرے ہمہ وقت فضا میں گونجتے رہتے ہیں کون نہیں دیکھتا کہ مال و زر کے بندے اپنی ادنیٰ سی خواہش کے لئے تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں اپنی دنیاوی آسائش و راحت کی خاطر مال و زر کے تختے بچھا دیتے ہیں مگر جب بھوک و پیاس سے بلکتا کوئی انہیں جیسا ان کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ان کی جبین پر بل پڑجاتے ہیں اور ان کے منہ سے نفرت و حقارت کے الفاظ ابلنے لگتے ہیں وہ شقی القلب یہ نہیں سوچتے کہ اگر معاملہ برعکس ہوتا تو ان کے جذبات و احساسات کیا ہوتے ؟ لہٰذا جنگ زرگری کے موجودہ دور میں مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانی برادری کے لئے یہ ارشاد گرامی ایک دعوت عمل اور مینارہ نور ہے۔
Top