مشکوٰۃ المصابیح - بہترین صدقہ کا بیان - 1925
عن أبي هريرة وحكيم بن حزام قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى وأبدأ بمن تعول " . رواه البخاري ومسلم عن حكيم وحده
حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت حکیم بن حزام (رض) دونوں راوی ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بہتر صدقہ وہ ہے جو بےپروائی کے ساتھ دیا ہے اور صدقہ دینے کی ابتداء اس شخص سے کرو جس کا نفقہ تم پر لازم ہے (بخاری) اور امام مسلم نے اس روایت کو صرف حضرت حکیم بن حزام سے نقل کیا ہے۔

تشریح
بےپروائی کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ کا مال اس انداز سے دو کہ تم خود فقیر و مفلس نہ بن جاؤ بلکہ غنا باقی رہے یعنی اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی کے بقدر مال و اسباب رکھ لو۔ اس کے بعد جو کچھ بچ رہے اسے اللہ کے نام پر خیرات کردو، ایسا نہ ہو کہ تمام ہی مال و زر اللہ کی راہ میں خرچ کردو اور اپنے اہل و عیال کو محتاجگی اور بھوک سے بلکنے کے لئے چھوڑ دو ، چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعد میں ہی بات کی وضاحت فرمائی کہ صدقہ کا مال پہلے تو ان لوگوں کو دو جن کی ضروریات زندگی تمہاری ذات سے وابستہ ہوں جب ان سے بچ رہے تو پھر بعد میں دوسروں کو دے دو ۔
Top