مشکوٰۃ المصابیح - نفل روزہ کا بیان - 2045
عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم حتى نقول : لا يفطر ويفطر حتى نقول : لا يصوم وما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان وما رأيته في شهر أكثر منه صياما في شعبان وفي رواية قالت : كان يصوم شعبان كله وكن يصوم شعبان إلا قليلا
ام المومنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نفل روزے رکھنے شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزے رکھنا ختم نہیں کریں گے اور جب روزے نہ رکھنے پر آتے تو ہم کہتے کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی روزہ نہیں رکھیں گے میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورے ماہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعبان کے علاوہ اور کسی مہینہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے مہینے میں جتنے زیادہ روزے رکھتے تھے اتنے اور کسی مہینہ میں علاوہ رمضان کے نہیں رکھتے تھے) ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے پورے ماہ روزے رکھا کرتے تھے (یعنی) ماہ شعبان میں چند دن چھوڑ کر بقیہ دنوں میں روزے سے رہا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ اس سلسلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول مبارک یہ تھا کہ کبھی تو مسلسل کافی عرصہ تک روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزوں کی اس کثرت اور تسلسل کو دیکھ کر لوگ گمان کرنے لگتے تھے کہ اب روزہ کا سلسلہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی ختم نہ کریں اور کبھی ایسا ہوتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل کافی عرصہ تک روزہ رکھتے ہی نہیں تھے یہاں تک کہ لوگ سوچتے کہ شاید اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفل روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ کان یصوم الخ میں جملہ آخر یعنی دوسرے لفظ کان سے جملہ اول کی وضاحت مقصود ہے کہ شعبان کے پورے ماہ سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، بعض حضرات کے نزدیک مراد یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سال تو شعبان کے پورے ماہ اور دوسرے سال شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
Top