مشکوٰۃ المصابیح - نفل روزہ کا بیان - حدیث نمبر 2089
وعن أم عمارة بنت كعب أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها فدعت له بطعام فقال لها : كلي . فقالت : إني صائمة . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي
روزہ دار کے سامنے کھانا
حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کے لئے کھانا منگوایا آپ ﷺ نے ام عمارہ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ انہوں نے عرض کیا کہ میں روزہ سے ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے (اور اس کا دل کھانے کی خواہش کرتا ہے جس کی بناء پر اس کے لئے روزہ بڑا سکت ہوجاتا ہے) تو جب تک کھانے والے کھانے سے فارغ نہیں ہوجاتے فرشتے اس پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
Top