مشکوٰۃ المصابیح - استغفار وتوبہ کا بیان - 2352
" استغفار " کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ سے اپنی بخشش چاہنا اور چونکہ " استغفار " کے ضمن میں جس طرح " توبہ " بھی آجاتی ہے اسی طرح کبھی " توبہ " استغفار کے ضمن میں نہیں بھی آتی اس لئے باب کا عنوان قائم کرتے ہوئے بطور خاص والتوبۃ کا ذکر کیا گیا ہے یا پھر والتوبہ کو الگ سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ استغفار تو زبان سے متعلق ہے کہ بندہ اپنی زبان کے ذریعہ اللہ سے بخشش و مغفرت مانگتا ہے جب کہ توبہ کا تعلق دل سے ہے کیونکہ کسی گناہ پر ندامت و شرمندگی اور پھر اللہ کی طرف رجوع اور آئندہ اس گناہ میں ملوث نہ ہونے کا عہد دل ہی سے ہوتا ہے۔ " توبہ " کے معنی ہیں رجوع کرنا گناہوں سے طاعت کی طرف، غفلت سے ذکر کی طرف اور غیبت سے حضور کی طرف۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کی بخشش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کے گناہوں کو دنیا میں بھی ڈھانکے بایں طور کہ کسی کو اس کے گناہ کا علم نہ ہونے دے اور آخرت میں اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے بایں طور کہ اس کو ان گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی سے پوچھا گیا کہ " توبہ " کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا کہ گناہ کو فراموش کردینا یعنی توبہ کرنے کے بعد گناہ کی لذت کا احساس بھی دل سے اس طرح ختم ہوجائے گویا وہ جانتا ہی نہیں کہ گناہ کیا ہوتا ہے ! !۔ اور سہیل تستری سے پوچھا گیا کہ حضرت ! توبہ کا کیا مفہوم ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تم گناہوں کو فراموش نہ کرو یعنی گناہ کو بھول مت جاؤ تاکہ عذاب الٰہی کے خوف سے آئندہ کسی گناہ کی جرات نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم آیت (توبوا الی اللہ جمیعا) ۔ تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو۔ کے مطابق استغفار یعنی طلب بخشش و مغفرت اور توبہ کرنا ہر بندہ پر واجب ہے کیونکہ کوئی بندہ بحسب اپنے حال و مرتبہ کے گناہ یا بھول چوک سے خالی نہیں ہے لہٰذا ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام گزشتہ گناہوں سے توبہ کرے۔ طلب بخشش و مغفرت کرے آئندہ تمام گناہوں سے بچتا رہے اور صبح و شام توبہ و استغفار کو اپنا معمول بنالے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا کفارہ ہوتا رہے خواہ وہ گناہ قصدا کئے ہوں یا خطاء و سہوا سرزد ہوئے ہوں اور گناہوں کی نحوست کی وجہ سے طاعت کی توفیق سے محروم نہ رہے نیز گناہوں پر اصرار کی ظلمت دل کو پوری طرح گھیر کر اللہ نخواستہ کفر و دوزخ تک نہ پہنچا دے۔ توبہ کے صحیح اور قبول ہونے کے لئے چار باتیں ضروری ہیں اور شرط کے درجہ میں ہیں : ایک تو یہ کہ محض اللہ کے عذاب کے خوف سے اور اس کے حکم کی تعظیم کے پیش نظر ہی توبہ کی جائے، درمیان میں توبہ کی کوئی اور غرض نہ ہو مثلاً لوگوں کی تعریف و مدح کا حصول اور ضعف و فقر کی وجہ، توبہ کی غرض میں داخل نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ گزشتہ گناہوں پر واقعی شرمندگی و ندامت ہو۔ تیسرے یہ کہ آئندہ ہر ظاہری و باطنی گناہ سے اجتناب کرے۔ اور چوتھے یہ کہ پختہ عہد اور عزم بالجزم کرے کہ آئندہ ہرگز کوئی گناہ نہیں کروں گا۔ توبہ کی کیفیت اور اثر آئندہ گناہ کرنے کے عزم کا صحیح ہونا یہ ہے کہ توبہ کرنے والا اپنے بلوغ کی ابتداء سے توبہ کرنے کے وقت تک پورے عرصہ کا جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ اس سے کیا کیا گناہ سرزد ہوئے ہیں تاکہ ان میں سے ہر ایک گناہ کا تدارک کرے چناچہ اگر اس عرصہ میں وہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر فرائض ترک ہوئے ہوں تو ان کی قضاء کرے اور اپنے اوقات کو نفل یا فرض کفایہ عبادتوں میں مصروف رکھ کر ان فرائض کو قضا کرنے میں سستی نہ کرے۔ اسی طرح اس عرصہ میں اگر ممنوع حرام چیزوں کا ارتکاب کیا ہے مثلا شراب پی ہے یا اور کوئی ممنوع وقبیح فعل کیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ان سے توبہ و استغفار کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نام پر غرباء و مساکین میں اپنا مال خرچ کرے اور صدقہ و خیرات کرتا رہے تاکہ اس کی توبہ باب قبولیت تک پہنچے اور حق تعالیٰ کی طرف سے اسے بخشش و مغفرت سے نوازا جائے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل پر یقین رکھے کہ انشاء اللہ توبہ قبول ہوگی اور مغفرت کی جائے گی، چناچہ خود حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ آیت (ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفوا عن السیأت) ۔ وہ ایسا رحیم و کریم ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خطاؤں سے درگزر کرتا ہے۔ یہ تو اس توبہ کی بات تھی جو ان گناہوں سے کی جائے جو محض اللہ تعالیٰ کے گناہ ہوں یعنی جن کا تعلق صرف حق اللہ سے ہو اور اگر اپنے اوپر وہ گناہ ہوں جن کا تعلق حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی تلفی یا ان کے نقصان سے ہو تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ سے بھی اپنی بخشش و مغفرت چاہے کیونکہ اس کی نافرمانی کی اور ان بندوں سے بھی ان کا تدارک کرے جن کی حق تلفی ہوئی ہے۔ چناچہ اگر حق تلفی کا تعلق مال سے ہو تو یا صاحب حق کو وہ مال ادا کرے یا اس سے معاف کرائے اور اگر اس کا تعلق مال سے نہ ہو جیسے غیبت یا اور کوئی ذہنی و جسمانی تکلیف جو اسے پہنچی ہو تو اس سے معافی چاہے۔ اگر حق تلفی کا تعلق کسی ایسی کوتاہی یا قصور سے ہو کہ اگر معاف کراتے وقت اس کا تذکرہ کسی فتنہ و فساد کا سبب بنتا ہو تو ایسی صورت میں اس قصور کا ذکر کئے بغیر اس شخص سے مطلقاً قصور معاف کرائے مثلا اس سے یوں کہے کہ مجھ سے جو بھی قصور ہوگیا ہو اسے معاف کر دیجئے اور اگر اس طرح معاف کرانے میں بھی فتنہ و فساد کا خوف ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرے۔ اس کی بارگاہ میں تضرع وزاری کرے، اچھے کام کرے اور صدقہ و خیرات کرتا رہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو اور اس شخص کو جس کا قصور ہوا ہے آخرت میں اپنے فضل و کرم کے تحت اپنے پاس سے اجر دے کر اسے راضی کرائے، اگر صاحب حق مرچکا ہو تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہیں اس لئے مردہ کا حق ان سے معاف کرائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے نیز مردہ کی طرف سے بھی صدقہ خیرات کرے۔ ایک مومن مسلمان کی شان یہ ہونی چاہئے کہ اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے توبہ کرنے میں بالکل سستی اور تاخیر نہ کرے نیز نفس کے مکر اور شیطان کے وسوسہ میں مبتلا ہو کر یہ نہ سوچے کہ میں توبہ پر قائم تو رہ سکوں گا نہیں اس لئے توبہ کیسے کروں کیونکہ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اس لئے اگر بتقاضائے بشریت توبہ کرنے کے بعد پھر گناہ سرزد نہ ہوجائے تو پھر توبہ کرے چاہے دن میں کئی مرتبہ ایسا ہو بشرطیکہ توبہ کے وقت اس کے دل میں یہ خیال نہ ہو کہ میں پھر گناہ بھی کروں گا اور توبہ بھی کرلوں گا بلکہ توبہ کرتے وقت یہی احساس رہے کہ شاید پھر گناہ کرنے سے پہلے مرجاؤں اور یہ توبہ میری آخری توبہ ثابت ہو۔ جب کوئی شخص توبہ کرنا چاہے تو پہلے نہا دھو کر صاف کپڑے پہنے اور دو رکعت نماز حضور قلب کے ساتھ پڑھے اور سجدہ میں گر کر بہت ہی زیادہ تضرع وزاری کے ساتھ اپنے نفس کو ملامت کرے اور اپنے گزشتہ گناہوں کو یاد کر کے عذاب الٰہی کے خوف سے اپنے قلب کو لرزاں وترساں کرے اور شرمندگی و ندامت کے پورے احساس کے ساتھ توبہ و استغفار کرے اور پھر ہاتھ اٹھا کر بارگاہ الٰہی میں یوں عرض رسا ہو۔ میرے پروردگار ! تیرے در سے بھاگا ہوا یہ گنہگار غلام اپنے گناہوں کی پوٹ لئے پھر تیرے در پر حاضر ہوا ہے انتہائی ندامت و شرمندگی کے ساتھ اپنی لغزشوں اور اپنے گناہوں کی معذرت لے کر آیا ہے تیری ذات رحیم و کریم ہے تو ستار و غفار ہے اپنے کرم کے صدقے میرے گناہ بخش دے ! اپنے فضل سے میری معذرت قبول فرما کر رحمت کی نظر سے میری طرف دیکھ نہ صرف یہ کہ میرے پچھلے گناہ بخش دے بلکہ آئندہ ہر گناہ ولغزش سے مجھے محفوظ رکھ کہ خیر و بھلائی تیرے ہی دست قدرت میں ہے اور اپنے گنہگار بندوں کو تو ہی بخشنے والا ہے اس کے بعد درود پڑھے اور تمام ہی مسلمانوں کے لئے بخشش و مغفرت چاہے۔ یہ تو عوام کی توبہ ہے کہ جن کی زندگی اور گناہ کے درمیان کوئی بڑی حد فاصل نہیں ہوتی اور وہ گناہ و معصیت میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں اور ان کی یہ توبہ انہیں اس بشارت کا مستحق قرار دیتی ہے کہ آیت (ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطہرین) لیکن خواص کہ جو اللہ کے اطاعت گزار بندے ہوتے ہیں جن کی زندگی معصیت و گناہ سے دور رہتی ہے اور اتباع شریعت کی حامل ہوتی ہے ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ ان برے اخلاق سے کہ جن سے قلب کو پاک رکھنا واجب ہے توبہ کریں، اسی طرح عاشقین اللہ کی توبہ یہ ہے کہ اگر بتقاضائے بشریت کسی وقت ان سے ذکر اللہ اور یاد الٰہی میں غفلت ہوجائے اور ماسوی اللہ میں مشغول ہوجائیں تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اپنی اس کوتاہی سے توبہ کریں۔ یہ بات جان لینی چاہئے کہ گناہ کبیرہ کا صدور ایمان سے خارج نہیں کرتا لیکن فاسق وعاصی کردیتا ہے گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ کے متعلق (باب الکبائر و علامات النفاق) مظاہر حق جدید جلد اول میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے اس موقع پر گناہ کی ان دونوں اقسام کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ جہاں تک صغیرہ گناہوں کا تعلق ہے تو وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ایک عام زندگی کے لئے ان سے اجتناب بھی دشوار ہے چناچہ مسلک مختار کے مطابق صغیرہ گناہ سے تقویٰ میں خلل نہیں پڑتا بشرطیکہ گناہ صغیرہ پر اصرار و دوام نہ ہو کیونکہ صغیرہ گناہ پر اصرار و دوام گناہ کبیرہ کا درجہ اختیار کرلیتا ہے۔ لہٰذا ہر مومن و مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں اور حتی المقدور صغیرہ گناہوں سے اجتناب بھی کرے اور جانے کہ اگرچہ گناہ ایمان سے خارج نہیں کردیتے لیکن اس بات کا خوف ہے کہ گناہ کی زندگی رفتہ رفتہ انجام کار کفر اور دوزخ کی حد تک پہنچا دے۔
Top