مشکوٰۃ المصابیح - پناہ مانگنے کا بیان - 2487
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم " تعوذوا بالله من جهد البلاء ودرك الشقاء وسوء القضاء وشماتة الأعداء "
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ بلاء کی مشقت سے بدبختی کے پہنچنے سے، بری تقدر سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
" بلاء " اس حالت کو کہتے ہیں جس میں انسان امتحان و آزمائش کے سخت کوش مرحلہ سے دوچار اور فتنہ دین و دنیا کی گٹھنا ئیوں اور دشواریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ " جہد " کے معنی ہیں " مشقت وغایت " لہٰذا جہد البلاء وبلاء کی مشقت سے مراد دین و دنیا کی وہ مصیبتیں ہیں جن میں انسان مبتلا ہوتا ہے اور وہ نہ صرف ان کو دور کرنے پر قادر نہیں ہوتا بلکہ ان مصیبتوں کے آنے پر بھی صبر نہیں کرسکتا۔ " بری تقدیر " سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے حق میں بری اور ناپسندیدہ ہو، اسی طرح دشمن کی خوشی سے پناہ مانگنے سے مراد یہ ہے کہ دین و دنیا کی کسی بھی ایسی مصیبت میں مبتلا نہ ہونے پائے جس سے دشمن خوش ہوتا ہو۔ بہرکیف اس حدیث میں جن چیزوں سے پناہ مانگنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے اس میں غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس حدیث میں ایک ایسی جامع دعا کی طرف راہنمائی کی گئی ہے جو تمام دینی اور دنیوی مقاصد ومطالب پر حاوی ہے۔
Top