مشکوٰۃ المصابیح - جامع دعاؤں کا بیان - 2511
عن أبي موسى الأشعري عن النبي صلى الله عليه و سلم : أنه كان يدعو بهذا الدعاء : " اللهم اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري وما أنت أعلم به مني اللهم اغفر لي جدي وهزلي وخطئي وعمدي وكل ذلك عندي اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت به أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر وأنت على كل شيء قدير "
حضرت ابوموسی اشعری (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم اغفرلی خطیتئتی وجہلی واسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی اللہم اغفرلی جدی وہزلی وخطائی وعمدی وکل ذلک عندی اللہم اغفرلی وماقدمت ومااخرت وما اسررت ومااعلنت وماانت اعلم بہ منی انت المقدم وانت المؤخر وانت علی کل شیء قدیر) ۔ اے اللہ ! معاف فرما میری خطا کو میری نادانی کو (یعنی جن چیزوں کو جاننا یا ان پر عمل کرنا واجب تھا اور میں نے ان کو نہیں جانا اسے معاف فرما) کاموں میں میری زیادتی کو اور اس گناہ سے جس کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ اے اللہ ! معاف فرما میرے اس برے کام کو جسے میں نے قصداً کیا ہے، اس کام کو جسے میں نے ہنسی دل لگی میں کیا ہو اور اس کام کو جسے میں نے دانستہ یا نادانستہ کیا ہو اور یہ سب باتیں مجھ میں ہیں۔ اے اللہ بخشش فرما میرے ان گناہوں کو جو میں نے پہلے کئے ہیں ان گناہوں کی جو (بالفرض والتقدیر) بعد میں ہوں گے۔ ان گناہوں کی جو پوشیدہ سرزد ہوئے ہوں ان گناہوں کی جو کھلم کھلا کئے ہوں اور ان گناہوں کی جن کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ تو ہی (جس کو چاہے اپنی توفیق کے ساتھ اپنی رحمت کی طرف آگے کرنے والا ہے اور تو ہی) جس کو چاہے اپنی رحمت سے پیچھے ڈالنے والا ہے اور تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
وکل ذالک عندی (اور یہ سب باتیں مجھ میں ہیں) یہ الفاظ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارگاہ رب العزت میں اپنے عجز و انکساری اور اپنے مقام عبدیت کے اظہار نیز از راہ تواضع کہے، ورنہ تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی تمام گناہوں سے پاک اور تمام خطاؤں سے مبرا تھی اور حقیقت میں تعلیم یہ ہے امت کے لئے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت مانگی جائے۔
Top