مشکوٰۃ المصابیح - حجۃ الوداع کے واقعہ کا بیان - 2596
" وداع " واؤ کے زبر کے ساتھ کے معنی ہیں " رخصت کرنا " اور حجۃ الوداع اس حج کو کہتے ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کی فرضیت نازل ہونے کے بعد ١٠ ھ میں کیا ! اس حج کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حج میں احکام شریعت کی تعلیم دی، ان کو رخصت کیا، اس دنیا سے اپنے رخصت ہونے کی انہیں خبر دی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی و انجام دہی اور دینی و تشریعی احکام کو دنیا کے سامنے پہنچا دینے اور نافذ کردینے پر ان کو اپنا گواہ بنایا۔ اس باب میں سب سے پہلے حضرت جابر (رض) کی جو طویل و بسیط حدیث نقل کی جا رہی ہے یہ احادیث میں سب سے جامع حدیث ہے اس حدیث سے ڈیڑھ سو فقہی مسئلے مستنبط ہوتے ہیں اور اگر کوئی زیادہ غور تامل کرے تو اس سے بھی زیادہ مسئلے سامنے آسکتے ہیں۔
Top