مشکوٰۃ المصابیح - سر منڈانے کا بیان - 2690
دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ ہی میں ہدی ذبح کی جاتی ہے اس کے بعد سر منڈا کر یا بال کتروا کر احرام کھول دیا جاتا ہے اس طرح رفث (عورت سے جماع وغیرہ) کے علاوہ ہر وہ چیز جو احرام کی حالت میں ممنوع تھی، جائز ہوجاتی ہے، چناچہ اس باب میں سر منڈوانے اور بال کتروانے دونوں چیزوں کا ذکر ہے، اگرچہ مؤلف مشکوۃ نے عنوان میں صرف سر منڈوانے کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے کیونکہ احرام سے نکلنے کے لئے بال کتروانے کی بہ نسبت سر منڈانا افضل ہے، اس بارے میں تفصیل انشاء اللہ حسب موقع بیان ہوگی۔ یہ بات جان لیجئے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج وعمرہ کے علاوہ اور کبھی سر منڈایا ہو۔
Top