Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3888 - 3970)
Select Hadith
3888
3889
3890
3891
3892
3893
3894
3895
3896
3897
3898
3899
3900
3901
3902
3903
3904
3905
3906
3907
3908
3909
3910
3911
3912
3913
3914
3915
3916
3917
3918
3919
3920
3921
3922
3923
3924
3925
3926
3927
3928
3929
3930
3931
3932
3933
3934
3935
3936
3937
3938
3939
3940
3941
3942
3943
3944
3945
3946
3947
3948
3949
3950
3951
3952
3953
3954
3955
3956
3957
3958
3959
3960
3961
3962
3963
3964
3965
3966
3967
3968
3969
3970
3970
3970
3970
3970
سنن النسائی - - حدیث نمبر 6082
عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاه جبريل وهو يلعب مع الغلمان فأخذه فصرعه فشق عن قلبه فاستخرج منه علقة . فقال : هذا حظ الشيطان منك ثم غسله في طست من ذهب بماء زمزم ثم لأمه وأعاده في مكانه وجاء الغلمان يسعون إلى أمه يعني ظئره . فقالوا : إن محمدا قد قتل فاستقبلوه وهو منتقع اللون قال أنس : فكنت أرى أثر المخيط في صدره . رواه مسلم
شق صدر کا واقعہ :
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ (اپنے بچپن میں جب دایہ حلیمہ کے پاس تھے تو اس کا واقعہ ہے کہ (ایک دن آپ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور آپ ﷺ کو پکڑ کر چت لٹا دیا، پھر انہوں نے آپ ﷺ کے (سینہ کو) دل کے قریب سے چاک کیا اور آپ ﷺ کے دل میں سے بستہ خون کا ایک سیاہ ٹکڑا نکال لیا کہ یہ تمہارے جسم کے اندر شیطان کا حصہ ہے (اگر یہ ٹکڑا تمہارے جسم میں یوں ہی رہنے دیا جاتا تو شیطان کو اس کے ذریعہ تم پر قابو پانے کا موقع ملتا رہتا) اس کے بعد انہوں نے آپ ﷺ کے دل کو ایک سونے کی لگن میں زمزم کے پانی سے دھویا اور پھر دل کو اس کی جگہ میں رکھ کرسینہ مبارک کو اوپر سے برابر کردیا۔ (وہ) بچے (جو اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ تھے یہ پورا منظر دیکھ کر گھبرا گئے اور) بھاگے ہوئے آنحضرت ﷺ کی ماں یعنی آپ ﷺ کی دایہ (حلیمہ) کے پاس آئے اور کہا کہ محمد ﷺ کو مار ڈالا گیا ہے (دایہ حلیمہ کے گھر اور پڑوس کے) لوگ (یہ سنتے ہی) اس جگہ پہنچے جہاں آنحضرت ﷺ موجود تھے، انہوں نے آنحضرت ﷺ کو صحیح سالم دیکھا لیکن آپ ﷺ کو اس حال میں پایا کہ خوف و دہشت سے) آپ ﷺ (کے چہرہ) کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت انس ؓ (یہ روایت بیان کرکے) کہتے ہیں کہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔ آنحضرت ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی کا نشان دیکھا کرتا تھا۔ (مسلم)
تشریح
جامع الاصول میں عن قلبہ کے بعد واستخرجہ کا لفظ بھی منقول ہے اور پوری عبارت یوں ہے فشق عن قلبہ واستخرجہ فاستخرج منہ علقہ۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا پھر انہوں نے آپ کے (سینہ کو) دل کے قریب سے چاک کیا اور دل کو نکالا اور پھر دل میں سے بستہ خون کا ایک سیاہ ٹکڑا نکال لیا ( جو برائیوں اور گنا ہوں کی جڑ ہوتا ہے) سونے کے لگن میں زمزم کے پانی سے دھویا۔ سونے کی لگن کا استعمال آپ ﷺ کی عظمت و کر امت کے اظہا رکے لئے تھا جہاں تک سونے کے استعمال کی ممانعت کا سوال ہے تو اس کا تعلق اس دنیا کی زندگی سے امتحان و آزمائش سے ہے جس کا مقصد انسان کو اس دنیاوی زندگی میں ایسی بہت سی چیزوں سے باز رکھ کر اس کی بندگی کو آزمانا ہے جس میں کامیاب ہونے کے بعد آخرت میں وہی چیزیں اس کو اجر و انعام کے طور پر حاصل ہونگی، اسی لئے آخرت میں نہ صرف یہ کہ سونے کا استعمال جائز ہوگا بلکہ جنت کے ظروف وبرتن سونے کے ہوں گے پس شق صدر کا یہ تمام واقعہ جو اس وقت یا شب معراج میں پیش آیا، اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ عالم غیب اور دوسرے جہاں کے احوال سے تعلق رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ نقطہ بھی محفوظ خاطر رہنا چاہیے کہ سونے کی لگن کا استعمال خود آنحضرت ﷺ کی طرف سے نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا استعمال فرشتے نے کیا تھا جو احکام و مسائل میں ہماری طرح مکلف نہیں تھا۔ ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ سونے کی لگن کے استعمال کا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب احکام و مسائل کا نفاذ ہی نہیں ہوا تھا اور شرعی طور پر کسی چیز کی حلت و حرمت نازل اور معلوم نہیں ہوئی تھی۔ حدیث کے اس ٹکڑے سے یہ ثابت ہوا کہ زمزم کا پانی سب پانیوں سے افضل و برتر ہے یہاں تک کہ جنت کے پانی پر بھی فضیلت و برتری رکھتا ہے کیونکہ اگر کوئی شبہ نہیں کہ وہ پانی جو بطور معجزہ آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے ابل کر نکلا تھا، یہاں تک کہ آب زمزم پر بھی فضیلت و برتری رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ پانی آنحضرت ﷺ کے دست مبارک کے اثر سے نکلا تھا جب کہ زمزم کا پانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی پیروں کے اثر سے برآمد ہوا ہے۔ یہ حدیث اور اسی طرح کی دوسری حدیثیں اس قبیل سے تعلق رکھتی ہیں جن کا جوں کا توں تسلیم کرنا واجب ہے اور بطریق مجاز تاویل وتوجیہہ کے ذریعہ ان کے ظاہری مفہوم ومعانی سے اعراض کرنا نہ تو جائز ہے اور نہ اس کی کچھ ضرورت ہے کیونکہ ان حدیثوں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ انسانی عقل وفہم سے کتنا ہی ماوراء کیوں نہ ہو، اس کے برحق اور سچ ہونے کے لئے یہی ایک بات کافی ہے کہ اس کا تعلق قادرمطلق، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ظہور سے ہے اور یہ وہ باتیں ہیں جن کی خبر صادق ومصدوق ﷺ نے دی ہے، لہٰذا ان کی صداقت شمہ برابر بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ شق صدر میں حکمت آنحضرت ﷺ کے سینہ مبارک کو چاک کرکے قلب مبارک کو صاف کرنے میں قدرت کی یہ حکمت کار فرما تھی کہ آپ ﷺ کا باطن اسی طرح مجلی و پاکیزہ اور قلب مبارک اس قدر لطیف و روشن ہوجائے کہ وحی الہٰی کا نورجذب کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے اور منصب رسالت کا بار اٹھانے کے لئے قلب و دماغ پہلے سے تیار رہے، نفسانی وسوسوں کا آپ ﷺ میں کہیں سے گزر نہ ہو اور شیطان آپ ﷺ کو حق کی طرف سے غافل کرنے میں نہ صرف یہ کہ کامیاب نہ ہوسکے بلکہ آپ ﷺ سے بالکل مایوس ہوجائے، جیسا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے الفاظ ہذا حظ الیشطان منک اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ بتادینا ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ شق صدر سینہ چاک کئے جانے) کا واقعہ چار مرتبہ ظہور میں آیا ہے ایک مرتبہ تو بچپن میں دایہ حلیمہ کے پاس، جس کا ذکر اس حدیث میں ہے، دوسری مرتبہ دس سال کی عمر میں، تیسری مرتبہ ظہور نبوت کے وقت اور چوتھی مرتبہ شب معراج میں اس وقت جب جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کو لینے آئے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ سینہ مبارک کا چاک کیا جانا اور قلب مبارک کا دھویا جانا صرف آنحضرت ﷺ کے لئے مخصوص تھا یا دوسرے پیغمبروں کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جو روایت تابوت اور سکینہ کے بارے میں منقول ہے اس میں انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس (تابوت) میں (دوسرے تبرکات کے علاوہ) وہ طشت بھی تھا، جس میں انبیاء (علیہ السلام) کے دل دھوئے گئے تھے، اس روایت سے ان علماء کی تائید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی طرح دوسرے انبیاء (علیہ السلام) کے بھی سینے چاک کئے گئے اور ان کے دل دھوئے گئے تھے۔
Top