مشکوٰۃ المصابیح - حوض اور شفاعت کا بیان - 5479
حوض کے معنی : لغت میں " حوض کے معنی ہیں " پانی جمع ہونا اور بہنا۔ اسی لئے جو گندا خون عورتوں کو ہر مہینہ آتا ہے۔ " حیض " کہلاتا ہے اور یہ لفظ بھی " حوض " ہی سے مشتق ہے یہاں حوض سے وہ " حوض " ( ہز) مراد ہے جو قیامت کے دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مخصوص ہوگا اور جس کی صفات و خصوصیات اس باب میں نقل ہونے والی احادیث سے معلوم ہوں۔ قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے دو حوض ہوں گے۔ ایک حوض تو میدان محشر میں پل صراط سے پہلے عطا ہوگا اور دوسرا حوض جنت میں ہوگا اور دونوں کا نام کوثر ہوگا۔ واضح رہے کہ عربی میں " کوثر " کے معنی ہیں خیر کثیر یعنی بیشمار بھلائیاں اور نعمتیں ! پھر زیادہ صحیح یہ ہے کہ میدان حشر میں جو حوض عطا ہوگا وہ " میزان " کے مرحلہ سے پہلے ہی ہوگا پس لوگ اپنی قبروں سے پیاس کی حالت میں نکلیں گے اور پہلے حوض پر آئیں گے۔ اس کے بعد میزان ( یعنی اعمال کے تولے جانے) کا مرحلہ پیش آئے گا۔ اسی طرح میدان حشر میں ہر پیغمبر کا اپنا حوض ہوگا جس پر اس کی امت آئے گی چناچہ اس وقت تمام پیغمبر آپس میں فخر کا اظہار کریں گے کہ دیکھیں کس کے حوض پر زیادہ لوگ آتے ہیں ہمارے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میرے حوض پر آنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ شفاعت کے معنی " شفاعت کا مطلب ہے گناہوں کی معافی کی سفارش کرنا ! " چناچہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کے دن بارگاہ رب العزت میں گنہگار اور مجرم بندوں کے گناہوں اور جرموں کے معاف کئے جانے کی درخواست پیش کریں گے اس لئے عام طور پر " شفاعت " کا لفظ اسی مفہوم کے لئے استعمال ہوتا ! ویسے " شفاعت " کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے اصل معنی جوڑا ( جفت) کرنے، کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ ملانے کے ہیں وتر ( بمعنی طاق) کے مقابلہ پر شفع ( بمعنی جفت) کا لفظ آتا ہے وہ اس معنی کے اعتبار سے ہے۔ اسی طرح زمین یا مکان میں ہمسائیگی کی وجہ سے جو حق خرید حاصل ہوتا ہے اس کو بھی " شفعہ " اسی معنی کی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ پس " شفاعت " میں بھی یہ معنی اس اعتبار سے موجود ہیں کہ شفاعت کرنے والا جرم و گناہ کرنے والے کی معافی کی درخواست پیش کر کے گویا خود کو اس مجرم و گناہ گار) کے ساتھ ملاتا ہے۔ شفاعت کی دو قسمیں جن لوگوں نے اس دنیا میں کبیرہ اور صغیرہ گناہ کیئے ہونگے ان کے حق میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت کا قبول ہونا اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ واضح رہے کہ شفاعت کی مختلف نوعیتیں ہوں گی۔ اور وہ تمام نوعیتیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے لئے ثابت ہیں چناچہ ان میں سے بعض تو ایسی ہیں جو صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات سے مخصوص ہوں گی اور بعض ایسی ہیں جن میں دوسروں کے ساتھ مشارکت ہوگی لیکن شفاعت کا دروازہ چونکہ سب سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کھولیں گے اس لئے حقیقت میں تمام شفاعتیں لوٹ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی طرف منسوب ہوں گی اور علی الاطلاق تمام شفاعتوں کے والی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہیں۔ شفاعت کی سب سے پہلی قسم " شفاعت عظمی " ہے اور یہ وہ شفاعت ہے جو تمام مخلوق کے حق میں ہوگی۔ اور یہ شفاعت کرنے کا شرف صرف ہمارے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہوگا۔ انبیاء کرام صلواۃ اللہ علیہم اجمعین میں سے بھی کسی کو اس شفاعت کی مجال وجرأت نہیں ہوگی اور اس شفاعت عظمی " سے مراد ہے تمام میدان حشر کے لوگوں کو راحت دینے، وقوف کی طوالت وشدت کو ختم کرنے، حساب کتاب اور پروردگار کے آخری فیصلے کو ظاہر کرنے اور تمام لوگوں کو محشر کی ہولنا کیوں، شدتوں اور سختیوں سے چھٹکارا دینے کی سفارش کرنا اس کی تفصیل احادیث سے معلوم ہوگی ! شفاعت کی دوسری قسم وہ ہے جس کے ذریعہ ایک طبقہ کو حساب کتاب کے بغیر جنت میں پہنچانا مقصود ہوگا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے لئے اس شفاعت کا ثبوت بھی منقول ہے بلکہ بعض حضرات کے نزدیک یہ شفاعت بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی ذات کے لئے مخصوص ہے۔ شفاعت کی تیسری قسم وہ ہے جس کی مدد سے ان لوگوں کو جنت میں پہنچانا مقصود ہوگا جن کے نامہ اعمال میں ثواب اور گناہ مساوی طور پر ہوں گے۔ شفاعت کی چوتھی قسم وہ ہے جس کے ذریعہ ان لوگوں کو جنت میں پہنچانا مقصود ہوگا جو اپنے گناہ اور جرائم کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ کے مستوجب قرار پائیں گے۔ چناچہ آنحضرت ان لوگوں کے حق میں شفاعت کریں گے اور ان کو جنت میں داخل کرائیں گے ! شفاعت کی پانچویں قسم وہ ہے جس کے ذریعہ کچھ لوگوں کے درجات و مراتب اور ان کے اعزازو اکرام میں ترقی اور اضافہ کرنا مقصود ہوگا شفاعت کی چھٹی قسم وہ ہے جو ان گناہ گاروں کے حق میں ہوگی جنہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا اور وہ اس شفاعت کے بعد وہاں سے نکال کر جنت میں پہنچائے جائیں گے، اس شفاعت کا حق مشترکہ ہوگا یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ دوسرے انبیاء، ملائکہ، علماء اور شہدا بھی اپنے اپنے طور پر اور اپنے اپنے لوگوں کے لئے یہ شفاعت کریں گے۔ شفاعت کی ساتویں قسم وہ ہے جس کے ذریعہ ان لوگوں کے عذاب میں تخفیف کرانا مقصود ہوگا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب و دوزخ کے مستوجب قرار دئیے جا چکے ہوں گے۔ شفاعت کی نویں قسم وہ ہے جو صرف اہل مدینہ کے حق میں ہوگی اور شفاعت کی دسویں قسم وہ ہے جو امتیاز واختصاص کے طور پر صرف ان لوگوں کے حق میں کی جائے گی۔ جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ اقدس کی زیارت کا شرف حاصل کیا جائے گا۔ علماء نے کہا ہے کہ شفاعت کے متعدد مواقع ومحل ہوں گے، شفاعت کا سب سے پہلا موقع تو وہ ہوگا جب لوگوں کو درگاہ رب العزت میں پیش کرنے کے لئے میدان محشر میں لا کھڑا کردیا جائے گا۔ اس وقت لوگ خوف وخجالت کے پسینے میں غرق ہوں گے، ہر ایک پر ہیبت و دہشت چھائی ہوگی ہر شخص مواخذہ و عذاب کے خوف سے کانپ رہا ہوگا اس وقت شفیع المذنبین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفاعت کریں گے تاکہ لوگوں کو کچھ اطمینان و راحت مل جائے اور وہ بیٹھ کر دم لے سکیں پھر جب درگاہ رب العزت سے حکم ہوگا کہ ان سب کو لے جایا جائے اور حساب لیا جائے تو اس موقع پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درخواست کریں گے کہ ان کو حساب سے مستثنی قرار دیا جائے اور یوں ہی معاف فرما دیا جائے اور اگر سب کا حساب ضروری لیا جانا ہو تو سرسری حساب پر اکتفا کرلیا جائے، حساب میں سختی وشدت اور سخت باز پرس نہ کی جائے، کیونکہ جو بھی سخت حساب سے دوچار ہوگا، اس کا عذاب سے بچنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔ پھر حساب کے بعد جو لوگ مستوجب عذاب قرار پائیں گے، ان کو دوزخ میں بھیجا جائے گا تو یہ موقع بھی شفاعت کا ہوگا تاآنکہ ان کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفاعت کریں گے اور ان کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں پہنچوائیں گے۔ غرضیکہ ان ہولناکی مواقع پر شروع سے لے کر آخر تک رسول مختار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت اور غفار وکریم پروردگار کی رحمت و عنایت سے عفو و کرم کی بہت کچھ امید رکھنی چاہئے۔ ویسے جو کچھ بھی فیصلہ صادر ہو۔
Top