مشکوٰۃ المصابیح - دوزخ اور دوزخیوں کا بیان - 5570
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " ناركم جزء من سبعين جزءا من نار جهنم " قيل : يا رسول الله إن كانت لكافية قال : " فضلت عليهن بتسعة وستين جزءا كلهن مثل حرها " . متفق عليه . واللفظ للبخاري . وفي رواية مسلم : " ناركم التي يوقد ابن آدم " . وفيها : " عليها " و " كلها " بدل " عليهن " و " كلهن "
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری (دنیا کی) آگ دوزخ کی آگ کے ستّر حصوں میں سے ایک حصہ ہے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! یہ تو دنیا کی آگ ہی (عذاب دینے کے لئے) کافی تھی (پھر اس سے بھی زیادہ حرارت وتپش رکھنے والی آگ پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ کی آگ کو یہاں (دنیا) کی آگ انہتر حصہ بڑھا دیا گیا ہے اور ان انہتر حصوں میں سے ہر ایک حصہ تمہاری (دنیا کی) آگ کے برابر ہے۔ اس روایت کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے، لیکن (یہاں مذکورہ) الفاظ بخاری کے ہیں اور صحیح مسلم کی روایت یوں ہے کہ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) تمہاری (دنیا کی) یہ آگ جس کو ابن آدم (انسان) بتلاتا ہے دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، نیز مسلم کی روایت میں علیہن اور کلہن کے بجائے علیہا اور کلہا کے الفاظ ہیں (یعنی بخاری کی روایت میں ہے

تشریح
: دنیا کی آگ کا دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی آگ جو درجہ حرارت رکھتی ہے دوزخ کی آگ اس سے ستر درجہ حرارت زیادہ گرم ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ستر کے عدد سے مراد دنیا کی آگ کا مقابلہ پر دوزخ کی آگ کی گرمی کی شدت و زیادتی کو بیان کرنا ہو نہ کہ یہ خاص عدد ہی مراد ہے گویا اصل مفہوم یہ ہوگا کہ دوزخ کی آگ تمہاری دنیا کی آگ کے مقابلہ پر بہت زیادہ درجہ حرارت رکھتی ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو سوال کیا گیا، اس کے جواب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا وہ گویا از راہ تاکید اسی جملہ کی تکرار تھی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شروع میں فرمایا تھا اور اس سے جواب کا حاصل یہ نکلا کہ بیشک کسی کو جلانے کے لئے یہ دنیا کی آگ ہی بہت ہے کہ اگر تم کسی انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے اس آگ میں ڈال دو تو وہ جل کر کوئلہ ہوجائے گا مگر دوزخ کی آگ جس عذاب الٰہی کے لئے تیار کی گئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس کی حرارت و گرمی اس دنیا کی آگ کی حرارت و گرمی سے بہت زیادہ ہوتا کہ اللہ کا عذاب دنیا والوں کے عذاب سے ممتاز رہے اور دوزخ کی اس آگ میں جلنے والوں کو معلوم ہو کہ ان کے اللہ کا عذاب اتنا شدید اور اتنا سخت ہے کہ اگر دنیا میں کوئی شخص انہیں وہاں کی آگ میں جلاتا تو وہ عذاب اس عذاب الٰہی کے مقابلے پر ہیچ ہوتا حاصل یہ کہ دوزخ کی آگ دراصل عذاب الٰہی ہے جیسا کہ اس کا اضاف عذاب میں ذکر ہوتا ہے اس لئے اس کو دنیا کی بہ نسبت کہیں زیادہ درجہ حرارت رکھنا ہی چاہے۔
Top