مشکوٰۃ المصابیح - آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - حدیث نمبر 5747
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا صافح الرجل لم ينزع يده من يده حتى يكون هو الذي ينزع يده ولا يصرف وجهه عن وجهه حتى يكون هو الذي يصرف وجهه عن وجهه ولم ير مقدما ركبتيه بين يدي جليس له . رواه الترمذي
مصافحہ ومواجہہ اور مجلس میں نشست کا طریقہ :
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کسی شخص سے مصافحہ ( اور ملاقات) کرتے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک علیحدہ نہ کرتے جب تک کہ وہی شخص اپنا علیحدہ نہ کرلیتا اور آپ ﷺ اپناچہرہ مبارک اس کے چہرہ کے سامنے سے اس وقت تک نہیں ہٹاتے تھے جب تک کہ وہی شخص اپنا چہرہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے سے نہ ہٹا لیتا، نیز آنحضرت ﷺ کو کبھی کسی نے اس حال میں نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے گھٹنے اپنے ہم نشین کے آگے کرکے بیٹھے ہوں۔ (ترمذی )

تشریح
آنحضرت ﷺ کے یہ دونوں وصف کہ جب تک مصافحہ کرنے والا خود اپنا ہاتھ علیحدہ نہ کرلیتا آپ ﷺ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے علیحدہ نہ کرتے اور جب تک کہ وہ شخص خود آپ ﷺ کے سامنے سے نہ ہٹ جاتا آپ ﷺ اس کی جانب متوجہ رہتے اور اس کی طرف سے اپنا روئے مبارک نہ ہٹاتے، آپ ﷺ کے علوئے اخلاق، نہایت تحمل وبردباری اور تواضع و انکساری پر دلالت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے نزدیک یہ بات بھی آداب مجلس کے خلاف تھی کہ اپنے کو نمایاں، برتر اور بڑا ظاہر کرنے کے لئے مجلس میں اپنے برابر بیٹھے ہوئے شخص سے آگے ہو کر بیٹھیں، چناچہ جب آپ ﷺ کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو سب کے ساتھ ایک صف میں ہو کر برابر بیٹھتے اور اپنے گھٹنے اور زانو آگے بڑھا کر نہ بیٹھتے جیسے گھمنڈی لوگوں کی عادت ہوتی ہے بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ اس جملہ سے یہ مراد ہے کہ آپ ﷺ آداب مجلس کی رعایت، مہذب طریقہ پر عمل اور اہل مجلس کی تعظیم کے پیش نظر لوگوں کے سامنے اپنے گھٹنے کھڑے کر کے نہیں بیٹھتے تھے۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ رکبتین سے مراد دونوں پاؤں ہیں اور ان کے آگے بڑھانے سے مراد مجلس میں پاؤں پھیلا کر بیٹھنا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ آپ ﷺ آداب مجلس کا لحاظ کرتے ہوئے کبھی کسی کے سامنے پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے۔ بہرحال اس حدیث میں امت کے لئے یہ تعلیم ہے کہ آنحضرت ﷺ کے طریقہ پر عمل کر کے اپنے ہر مسلمان بھائی کی خاطر داری اور تعظیم و تکریم کرنی چاہیے خواہ وہ مرتبہ میں اپنے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
Top