مشکوٰۃ المصابیح - آنحضرت کی بعثت اور نزول وحی کا بیان - 5758
لفظ " مبعث " بعث اور زمانہ بعث کے معنی میں ہے اور " بعث " کے معنی ہیں اٹھانا، بھیجنا۔ یہاں اس لفظ سے مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا نبی اور رسول بنا کر تمام مخلوق کی طرف بھیجنا۔ لفظ " بدء " کے معنی آغاز، ابتداء اور شروع کے ہیں بعض روایتوں میں " بدء " کے بجائے " بدو " کا لفظ ہے اور اس کے معنی ظہور کے ہیں، مفہوم ومطلب کے اعتبار سے دونوں لفظوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن زیادہ بہتر اور موزوں پہلی ہی روایت ہے جس میں " بدء " کا لفظ ہے لفظ " وحی " کے اصل معنی ہیں اشارہ کرنا لکھنا، رمزو کنایہ میں ایسی بات کرنا، آہستہ سے بات کرنا، پیغام بھیجنا، القا اور الہام کرنا۔ اور مشارق الانوار میں لکھا ہے وحی کا اصل مفہوم ہے تیزی کے ساتھ خفیہ طور پر پیغام رسانی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے انبیاء پر نزول وحی (اللہ تعالیٰ کی طرف پیغام و ہدایات آنے) کی مختلف صورتیں تھیں، بعض کو براہ راست حق تعالیٰ سے شرف تکلم حاصل ہوتا تھا جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔ جیسے ہمارے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی شب معراج میں یہ شرف حاصل ہوا تھا۔ وحی کی دوسری صورت رسالت اور فرشتے کی وساطت کی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا پیغام اور ہدایت لے کر آتے اور حرف بحرف رسول و نبی تک پہنچاتے، وحی کی اکثر وبیشتر یہی صورت عمل میں آیا کرتی تھی، وحی کی تیسری صورت القا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بات اور کسی مضمون کا دل میں ڈالا جانا جیسے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا القی فی روعی (یہ بات میرے میں ڈالی گئی) اور کہتے ہیں کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر وحی آتی تھی وہ زیادہ تر اسی صورت میں ہوتی تھی۔ یہ تو اس " وحی " کا ذکر تھا جس کی نسبت انبیاء کرام کی طرف ہوتی ہے قرآن مجید میں بعض موقع پر لفظ " وحی " کی نسبت غیر انبیاء کی طرف بھی کی گئی ہے تو واضح رہے کہ ایسے موقعوں پر " وحی " کا لفظ " الہام " کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے ایک جگہ فرمایا : واوحینا الی ام موسیٰ (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو الہام کیا) اسی طرح " وحی " کا لفظ امر (حکم) کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے ایک آیت میں ہے (وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّ نَ ) 5 ۔ المائدہ : 111) (اور ہم نے حواریین کو حکم دیا) نیز " وحی " سے مراد طبعی خاصہ " پیدا کرنا بھی ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا واوحیٰ ربک الی النحل (اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طبیعت میں یوں رکھا۔ "
Top