مشکوٰۃ المصابیح - معراج کا بیان - 5784
" معراج " کا لفظ " عروج " سے ہے جس کے معنی ہیں، چڑھنا، اوپر جانا۔ اور معراج اس چیز کو کہتے ہیں جو اوپر چڑھنے کا ذریعہ بنے یعنی سیڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو آسمانوں کی سیر کرائی اور وہاں خاص خاص نشانیاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھلائیں۔ اس کو معراج اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ گویا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سیڑھی رکھی گئی۔ جس پر چڑھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان پر تشریف لے گئے اور ایک روایت میں " معراج " یعنی سیڑھی کا تذکرہ بھی آیا ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عالم بالا کا سفر شروع ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سیڑھی رکھی گئی جس کے ذریعہ آسمان کے اوپر تشریف لے گئے اور یہ وہی سیڑھی ہے جس کے ذریعہ فرشتے آسمان سے آمدورفت رکھتے ہیں اور جس پر سے بنی آدم کی ارواح آسمان تک چڑھتی ہیں۔ معراج کا زمانہ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ معراج نبوت کے بارھویں سال یعنی ہجرت سے ایک سال پہلے ربیع الاول کے مہینہ میں ہوئی اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ رمضان کی ستائیس تاریخ کو ہوئی، کچھ حضرات کا قول ستائیسویں رجب کا ہے اور عوام میں بھی یہی مشہور ہے، کچھ حضرات ہجرت سے تین سال پیشتر معراج ہونے کے قائل ہیں۔ معراج اور اسراء کا فرق جاننا چاہئے کہ ایک تو " معراج " ہے اور ایک " اسراء "۔ اسراء اس سفر کو کہتے ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شب میں مسجد حرام ( بیت اللہ) سے مسجد اقصی ( بیت المقدس) تک کیا اور مسجد اقصی سے آسمان تک کے سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔ اسراء نص قرآن سے ثابت ہے اور اس کا انکار کرنا دائرہ اسلام سے خارج ہونا ہے اور معراج، مشہور و متواتر حدیثوں سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے والا گمراہ اور بدعتی کہلاتا ہے۔ خواب میں یا عالم بیداری میں اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو معراج پیش آئی وہ خواب کا واقعہ ہے یا عالم بیداری کا ؟ یہ واقعہ ایک بار پیش آیا یا متعدد بار ؟ یا یہ کہ ایک بار تو عالم بیداری میں پیش آیا اور خواب میں متعدد بار پیش آیا ؟ یا یہ کہ اگر یہ واقعہ خواب میں بھی پیش آیا تو کیا وہی اصلی واقعہ ہے یا وہ اس حقیقی واقعہ کا ابتدائیہ اور تمہید تھی جو عالم بیداری میں پیش آیا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ جسمانی طور پر آسمانوں کے سیر کرنے سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں روحانی اور نفسیاتی طور پر اس عالم بالا سے ایک گونہ مناسبت اور تعلق پیدا ہوجائے جیسا کہ ابتدائے نبوت میں رویائے صادقہ ہی کو وحی اور عالم بالا سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مناسبت کا ذریعہ بنایا گیا تھا ؟ اور یا یہ کہ اسراء یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کے سفر کا واقعہ تو جسمانی طور پر پیش آیا تھا اور معراج یعنی مسجد اقصی سے عالم بالا تک کا واقعہ محض روحانی طور پر پیش آیا تھا ؟ بہر حال ان تمام اقوال اور ان سے متعلق بحث دلائل سے صرف نظر کرتے ہوئے اتنا بتادینا کافی ہے کہ اس بارے میں جو قول تحقیقی اور زیادہ صحیح سمجھا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ معراج کا واقعہ ایک بار پیش آیا ہے اور عالم بیداری میں جسم وروح کے ساتھ پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک پھر مسجد اقصی سے آسمانوں تک اور پھر آسمانوں سے ان خاص مقامات تک جہاں تک اللہ نے چاہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے جایا گیا۔ جمہور فقہا و علماء محدثین و متکلمین اور صوفیاء کا یہی مسلک ہے۔ نیز اس سلسلہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیثیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال نہایت کثرت سے منقول ہیں جن میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر معراج کے واقعہ کا تعلق محض خواب سے ہوتا ( جیسا کہ گمان کیا جاسکتا ہے) تو نہ اس غیر معمولی انداز میں اس واقعہ کو بیان کیا جاتا اور نہ اس سے متعلق وہ تمام بحث و تحقیق ہوتی جو علماء ومحققین نے کی ہے، علاوہ ازیں اس مسئلہ کو لے کر بعض لوگوں نے جو فتنہ خیزی اور غوغا آرائی کی ہے نہ وہ ہوتی اور نہ یہ مسئلہ اختلاف و انکار نیز ارتداد کے ابتلاء کا باعث بنتا۔ معراج آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خصوصی شرف ہے جسم وروح کے ساتھ معراج کا حاصل ہونا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خصوصی شرف ہے یہ مرتبہ کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے آخری نبی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت و برگزیدگی کو ظاہر کرنے کے لئے یہ خارق عادت قدرت ظاہر فرمائی۔ لہٰذا واقعہ معراج کو اسی سیاق وسباق میں دیکھنا چاہئے۔ اس مسئلہ کو عقل و قیاس کے پیمانہ سے ناپنا بےسود بھی ہے اور حقیقت واقعہ کو محض دماغی قابلیت کے بل پر سمجھنا اور سمجھانا گرفتاران عقل کے بس سے باہر بھی ہے یہ مسئلہ خالص یقین و اعتقاد کا ہے بس اس پر ایمان لانا اور اس کی حقیقت و کیفیت کو علم الٰہی کے سپرد کردینا ہی عین عبادت ہے اور ویسے بھی نبوت، وحی اور معجزوں کے تمام معاملات احاطہ عقل و قیاس سے باہر کی چیزیں ہیں، جو شخص ان چیزوں کو قیاس کے تابع اور اپنی عقل و فہم پر موقوف رکھے اور کہے کہ یہ چیز جب تک عقل میں نہ آئے میں اس کو نہیں مانوں گا اور اس پر اعتقاد نہیں رکھوں گا تو سمجھنا چاہئے کہ وہ شخص ایمان کے اپنے حصہ سے محروم ہے، ہاں اولیاء اللہ اور عارفین بیشک معرفت کے ایک خاص مقام تک پہنچنے کے بعد اتنی صلاحیت کے حامل ہوجاتے ہیں کہ ان پر ان چیزوں کی کچھ حقیقت روشن اور واضح ہوجاتی ہے، جو لوگ معرفت کے اس مقام کو نہ پہنچے ہوں ان کے لئے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جو کچھ فرما دیں بس اس کو مان لیں اور بلا چون وچرا اس پر ایمان لے آئیں، سلامتی اور نجات کی راہ اس کے علاوہ کوئی نہیں۔
Top