Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 1262
وَعَنْ عَاصِمِ الْاَحْوَلِ ص قَالَ سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنِ الْقُنُوْتِ فِی الصَّلٰوۃِ کَانَ قَبْلَ الرُّکُوْعِ اَوْ بَعْدَہُ قَالَ قَبْلَہُ اِنَّمَا قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ الرُّکُوْعِ شَھْرًا اِنَّہُ کَانَ بَعَثَ اُنَاسًا ےُّقَالُ لَھُمُ القُرَّآءُ سَبْعُوْنَ رَجُلًا فَاُصِےْبُوْا فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ الرُّکُوْعِ شَھْرًا ےَّدْعُوْ عَلَےْھِمْ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
دعاء قنوت پڑھنے کا وقت
اور حضرت عاصم احول فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا کہ (صبح کی نماز میں یا وتر کی یا کسی حادثہ کی یا وبا پھیلنے کے وقت ہر فرض) نماز میں وہ رکوع سے پہلے پڑھی جاتی تھی یا رکوع کے بعد؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے (اور فرمایا کہ) رسول اللہ ﷺ نے (صبح کی نماز میں یا سب نمازوں میں) رکوع کے بعد دعاء قنوت صرف ایک مرتبہ پڑھی تھی (اور وہ بھی) اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے چند صحابہ کو جنہیں قراء کہتے تھے اور تعداد میں ستر تھے (تبلیغ کے لئے کہیں) بھیجا تھا وہاں کے لوگوں نے انہیں شہید کردیا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد دعاء قنوت پڑھ کر قراء کو شہید کرنے والوں کے لئے بد دعا کی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد دعاء قنوت کا پڑھنا منسوخ ہوگیا ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ قراء سبعون کی شہادت کا واقعہ قراء سبعون یعنی ستر قاری اصحاب صفہ میں سے تھے انہیں قراء اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم بہت زیادہ پڑھتے اور بہت یاد کرتے تھے۔ حالانکہ یہ حضرات بہت زیادہ غریب اور زاہد تھے اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ صفہ میں ہر وقت قرآن اور علم کے سیکھنے میں مشغول رہتے تھے لیکن اس کے باوجود جب بھی مسلمان کسی حادثے میں مبتلا ہوتے تو یہ حضرات پوری شجاعت اور بہادری کے ساتھ حادثے کا مقابلہ کرتے اور مسلمانوں کی مدد کرتے۔ ان میں سے بعض حضرات تو ایسے تھے جو دن بھر جنگل سے لکڑیاں جمع کر کے لاتے اور انہیں بیچ کر اہل صفہ کے لئے کھانا خریدتے تھے اور رات کو قرآن کریم کی تلاوت و درود میں مشغول رہتے تھے۔ ان خوش نصیب صحابہ کو رسول اللہ ﷺ نے اہل نجد کی طرف بھیجا تھا تاکہ یہ وہاں پہنچ کر ان قبائل کو اسلام کی طرف بلائیں اور ان کے سامنے قرآن کریم پڑھیں جو کفر و شرک اور ظلم وجہل میں پھنس کر تباہی و بربادی کے راستے پر لگے ہوئے ہیں جب یہ لوگ بیر معونہ پر جو مکہ اور عسفان کے درمیان ایک موضع ہے، اترے تو عامر بن طفیل، رعل، ذکوان اور قارہ نے ان قراء صحابہ پر بڑی بےدردی سے حملہ کیا اور پوری جماعت کو شہید کر ڈالا، ان میں سے صرف ایک صحابی حضرت کعب بن زید انصاری بچ گئے وہ بھی اس طرح کہ جب یہ زخمی ہو کر گرگئے اور جسم بالکل نڈھال ہوگیا، تو ان بدبختوں نے یہ سمجھ کر کہ ان کی روح نے بھی جسم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے ان سے الگ ہوئے مگر خوش قسمتی سے ابھی ان میں زندگی کے آثار موجود تھے چناچہ وہ کسی نہ کسی طرح بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور اللہ نے ان کو صحت و تندرستی عطا فرمائی یہاں تک کہ غزوہ خندق میں شہید ہوئے۔ بہر حال جب سرور دو عالم ﷺ کو اس عظیم حادثے اور ظالم کفار کے ظلم و بربریت کا علم ہوا تو آپ ﷺ کو بےحد غم ہوا، حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کسی کے لئے اتنا غمگین نہیں دیکھا جتنا کہ آپ ﷺ ان مظلوم صحابہ کے لئے غمگین ہوئے چناچہ آپ ﷺ مسلسل ایک مہینہ تک قنوت میں ان بدبخت کفار کے لئے بد دعا کرتے رہے، یہ واقعہ ٤ ھ میں پیش آیا۔
Top