Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 6002
وعن المسور بن مخرمة قال : لما طعن عمر جعل يألم فقال له ابن عباس وكأنه يجزعه : يا أمير المؤمنين ولا كل ذلك لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت أبا بكر فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت المسلمين فأحسنت صحبتهم ولئن فارقتهم لتفارقنهم وهم عنك راضون . قال : أما ما ذكرت من صحبة رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضاه فإنما ذاك من من الله من به علي وأما ما ذكرت من صحبة أبي بكر ورضاه فإنما ذلك من من الله جل ذكره من به علي . وأما ما ترى من جزعي فهو من أجلك وأجل أصحابك والله لو أن لي طلاع الأرض ذهبا لافتديت به من عذاب الله عز و جل قبل أن أراه . رواه البخاري
دین وملت کی غم گساری
اور حضرت مسور ابن مخرمہ کہتے ہیں حضرت عمر فاروق (ابو لؤلؤ کے خنجر سے) زخمی ہوئے تو کرب یا بےچینی کا اظہار کرنے لگے (یعنی ان کی عیادت کے لئے آنے والوں کو ایسا لگتا تھا جیسے فاروق اعظم زخم کی اذیت سے شدید کرب اور بےچینی میں ہیں جس کا اظہار کراہ وغیرہ کی صورت میں ہورہا ہے) چناچہ حضرت عبداللہ ابن عباس نے (یہ صورت دیکھ کر) گویا حضرت عمر کو فزع اور بےصبری کی نسبت دی (یا یہ کہ حضرت عمر کو تسلی وتشفی دی) اور کہا کہ امیرالمؤمنین! یہ سب (یعنی جزع وفزع اور بےقراری وبے صبری کا اظہار آپ کی شان کے شایاں) نہیں ہے آپ تو وہ ہستی ہیں جس کو رسول کریم ﷺ کی صحبت ورفاقت کا شرف حاصل ہوا اور بہت اچھی صحبت حاصل ہوئی (بایں طور کہ) آپ نے رفاقت رسول کا کامل حق ادا کیا اور تمام تر آداب و شرائط پورے کرکے آنحضرت ﷺ کی صحبت و خدمت سے فیضیاب ہوئے اور رسول کریم ﷺ اس حال میں آپ سے ہوئے کہ آپ سے راضی وخوش تھے (جس کا ثبوت یہ ارشاد رسول ﷺ ہے کہ فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے) پھر ابوبکر کی رفاقت ومجالست آپ کو نصیب ہوئی اور ان کے ساتھ بھی آپ کی رفاقت بہت اچھی رہی یہاں تک کہ جب وہ آپ سے جدا ہوئے تو آپ سے خوش تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے آپ ہی کو اپنا نے جانشین نامزد فرمایا اور پھر (اپنی خلافت کے زمانہ میں) آپ مسلمانوں کو خدمت ورفاقت کا موقع ملا اور ان کی خدمت ورفاقت کا فریضہ بھی آپ نے بڑی اچھی طرح نبھایا (کہ مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف، رعایا پروری اور کامیاب ترین حکمرانی میں آپ کے نام کا ڈنکا چار دوانگ عالم میں بج اٹھا) اب اگر مسلمانوں سے جدا ہونگے تو اس حال میں جدا ہوں گے کہ تمام مسلمان آپ سے راضی وخوش ہیں۔ فاروق اعظم نے ( یہ سن کر) فرمایا (اے عباس) تم نے آنحضرت ﷺ کی صحبت اور آپ ﷺ کی رضا و خوشنودی کا جو ذکر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا احسان ہے جو اس نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھ پر کیا ہے، اسی طرح تم نے حضرت ابوبکر کی صحبت ورفاقت اور ان کی خوشنودی کا جو ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کا ایک بڑا احسان ہے جس کے ذریعہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے سرفراز کیا۔ رہی میری بےصبری وبے قراری جو تم دیکھ رہے ہو تو (اس کا تعلق زخم کی تکلیف اور درد وبے چینی پر جزع ونزع سے نہیں ہے بلکہ درحقیقت) یہ تمہارے اور تمہارے دوستوں اور ساتھیوں کے سبب سے ہے۔ خدا کی قسم اگر میرے پاس تمام زمین کے برابر سونا ہو تو میں اس کو اللہ کے عذاب کے بدلے میں قربان کردوں اس سے پہلے کہ میں اللہ کو (یا اللہ کے عذاب کو) دیکھوں۔ (بخاری)
تشریح
حضرت ابن عباس نے گویا اس طرف اشارہ کیا کہ جب اللہ کا رسول آپ سے راضی وخوش گیا اللہ کے رسول کا چہیتا آپ سے راضی وخوش ہے اور آپ اپنے اللہ سے راضی وخوش ہیں اس صورت میں تو آپ اس ارشاد ربانی کی بشارت کا مصداق ہیں یایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ اے اطمینان والی روح تو اپنے پروردگار (کے جوار رحمت) کی طرف چل اس طرح سے کہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش۔ پھر آپ اتنا پریشان کیوں ہیں، اتنی بےقراری کیوں ہے، اس زخم کی تکلیف نے آپ کو بےچین کردیا ہے یا موت کے تصور نے؟ موت تو مؤمن کے لئے تحفہ ہے وہ تحفہ جو مقام اعلی میں بندہ کو اپنے آقا سے ملائے گا، رضائے مولیٰ کی ابدی نعمتوں اور سعادتوں تک پہنچائے گا۔ حضرت عمر نے حضرت ابن عباس کو جو جواب دیا اس کا حاصل یہ تھا کہ محض تمہارا خیال ہے کہ میری بےچینی وبے قراری زخم کی تکلیف یا موت کے خوف سے ہے، درحقیقت میرا یہ سارا اضطراب اور اظہار کرب تم لوگوں (اہل اسلام) کے مستقبل کے بارے میں چند خطرات وخدشات کا احساساتی تاثر ہے۔ میں ڈرتا رہا ہوں کہ کہیں میرے بعد فتنے سر نہ ابھارنے لگیں، اختلاف و انتشار اور دین سے بےتوجہی کی خرابیاں مسلمانوں میں نہ درآئیں، فتنہ و فساد کے وہ دروازے جن کو میں نے ملت اسلامیہ پر بڑی مضبوطی سے بند کر رکھا تھا ڈھیلے نہ پڑجائیں علاوہ ازیں خود اپنے بارے میں آخرت کا خوف بھی میرے لئے کچھ کم اضطرب انگیز نہیں ہے بیشک حق تعالیٰ نے مجھے بڑی بڑی سعادتوں سے نوازا اور اس دنیا میں مجھ پر بےپایاں فضل و انعام فرمایا لیکن میں نے حق تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں جو جو کو تاہیاں کی ہیں ان پر آخرت میں مواخذہ بھی ہوسکتا ہے، اگر عدل الٰہی نے مجھے مستوجب عذاب گردان دیا تو کیا حشر ہوگا، استیعاب میں منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق جب زخمی ہو کر گرے تو اپنے بیٹے حضرت عبداللہ ابن عمر کی گود میں سر رکھے پڑے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے ظلوما لنفسی غیرانی مسلم اصلی صلاتی کلہا واصوم میں نے اپنے نفس پر بڑا ہی ظلم کرنے والا ہوں باوجودیکہ میں مسلمان ہوں، تمام نمازیں بھی پڑھتا ہوں اور روزے بھی رکھتا ہوں۔
Top