Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 6204
وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : آية الإيمان حب الأنصار وآية النفاق بغض الأنصار . متفق عليه
انصار کی فضیلت
اور حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (یعنی کمال ایمان) کی نشانی (تمام) انصار سے محبت رکھنا۔ اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض و دشمنی رکھنا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
انصار کا لفظ لغوی طور پر ناصر یا نصر کی جمع ہے اور اصطلاحا اس لفظ کا اطلاق مدینہ کے ان لوگوں پر ہوتا ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور جان ومال سے آپ ﷺ کی مدد کی دراصل مدینہ میں دو قبیلے آباد تھے۔ ایک کے مورث اعلی کا نام اوس اور دوسرے کامورث اعلی کا نام خزرج تھا اوس و خزرج دونوں بھائی تھے اور آگے چل کر ان دونوں کی نسلوں نے دو زبر دست قبیلوں کی صورت اختیار کرلی۔ مدینہ میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی آمد سے پہلے یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے کے خلاف بھیانک مخاصمت و دشمنی رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ہجرت نبوی کے وقت تک مسلسل ایک سو بیس سال سے ان دونوں قبیلوں کے درمیان جنگ و عداوت چلی آرہی تھی، لیکن جوں ہی انہوں نے اسلام و توحید اور پیغمبر اسلام ﷺ سے تعلق قائم کیا ان کی باہمی عداوت ومخاصمت، باہمی محبت وموانست میں بدل گئی۔ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں قبیلوں کو انصار کا لقب عطا فرمایا اور اسی لقب کے ذریعہ ان قبیلوں کے لوگ ممتاز ہوئے۔ ان کے بعد ان کی اولاد، ان کی نسلوں اور ان کے آزاد کردہ غلاموں کے لئے بھی یہ لقب باقی رہا۔ انصار کے فضائل ومناقب کا کوئی ٹھکانہ نہیں، اسلام میں بلند تر، شرف و اعزاز ان کو حاصل ہے قرآن کریم میں ان کی تعریف مذکور ہے اور یہ عظیم تر رتبہ ان کو اس بناء پر حاصل ہوا کہ انہوں نے نہایت مخلصانہ طور پر پیغمبر اسلام کو ٹھکانا دیا۔ جان ومال سے آپ ﷺ کی مدد کی اور آپ ﷺ کے دعوتی مشن کے نہایت زبردست اور موثر و معاون بنے۔ اور چونکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی معاونت کر کے تمام عرب وعجم کے دشمنان دین کی عداوت مول لی۔ اس لئے ضروری ہوا کہ ان کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان کی عداوت کو کفر ونفاق کی علامت، اسی طرح ان کے تئیں کمال محبت کو کمال ایمان کا موجب اور ان کے تئیں نقصان محبت کو نقصان ایمان کا موجب قرار دیا جائے بلکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر کوئی شخص اس بناء پر ان سے عدوات رکھے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے معاون و مددگار بنے تو وہ شخص یقینی طور پر حقیقی کافر ہے۔
Top