جنبی شخص کے ساتھ بیٹھ جا نا اور اس کو چھونے وغیرہ سے متعلق فرمان رسول ﷺ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے، اور وہ اس وقت جنبی تھے، تو وہ چپکے سے نکل گئے، اور (جا کر) غسل کیا، نبی اکرم ﷺ نے انہیں نہیں پایا، تو جب وہ آئے، تو آپ نے پوچھا ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں، آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! ١ ؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا ۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل ٢٣ (٢٨٣)، ٢٤ (٢٨٥)، صحیح مسلم/الحیض ٢٩ (٣٧١)، سنن ابی داود/الطھارة ٩٢ (٢٣١)، سنن الترمذی/فیہ ٨٩ (١٢١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٠ (٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤٨)، مسند احمد ٢/٢٣٥، ٢٨٢، ٤٧١ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یہ جملہ کہہ کر ان کے ایسا کرنے اور مومن کے نجس ہونے کا عقیدہ رکھنے پر آپ نے تعجب کا اظہار کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 269
Top