سنن النسائی - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 1411
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه في سبيل الله يطير على متنه كلما سمع هيعة أو فزعة طار عليه يبتغي القتل والموت مظانه أو رجل في غنيمة في رأس شعفة من هذه الشعف أو بطن واد من هذه الأودية يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعبد الله حتى يأتيه اليقين ليس من الناس إلا في خير . رواه مسلم
جو شخص مجاہد کے گھر والوں کے ساتھ خیانت کرے
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر پر بیٹھ رہنے والوں پر ویسی ہی ہے جیسی ان کی ماؤں کی حرمت ان پر ہے، اگر گھر پر بیٹھ رہنے والے کسی شخص کو کسی مجاہد نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال سونپ دی، (اور اس نے اس کے ساتھ خیانت کی) تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! یہ فلاں ہے (تمہارا مجرم آؤ اور) اس کی نیکیوں میں سے جتنا چاہو لے لو ، پھر نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟ ۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ٣١٩١ (صحیح )
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3191
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sanctity of the wives of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. There is no man among those who stay behind who takes on the responsibility of looking after the wife of one of the Mujahidin (and betrays him) but he (the betrayer) will be made to stand before him on the Day Resurrection and it will be said: O So-and-so, this is so-and-so, take whatever you want from his good deeds." Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) turned to his Companions and said: "What do you think: Will he leave him any of his good deeds?
Top