سنن الترمذی - زکوۃ کا بیان - حدیث نمبر 5691
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ يَدْخُلُ عَلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَکَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ قَالَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَرَی هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْکُنَّ قَالَتْ فَحَجَبُوهُ
اجنبی عورتوں کے پاس مخنث کے جانے کی ممانعت کے بیان میں
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور لوگ اسے جنسی خواہش نہ رکھنے والوں میں شمار کرتے تھے نبی ﷺ ایک دن تشریف لائے تو وہ آپ ﷺ کی بعض بیویوں کے پاس بیٹھا ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا اس نے کہا جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں سے آتی ہے اور جب جاتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ جاتی ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ مخنث جو چیز یہاں دیکھتا ہوگا (ہو سکتا ہے کہ دوسری جگہ جا کر بیان کرے) کہ یہ تمہارے پاس نہ آیا کرے سیدہ ؓ فرماتی ہیں پھر لوگوں نے اسے پردہ کروا دیا۔
Aisha reported that a eunuch used to come to the wives of Allahs Apostle ﷺ and they did not find anything objectionable in his visit considering him to be a male without any sexual desire. Allahs Apostle ﷺ one day came as he was sitting with some of his wives and he was busy in describing the bodily characteristics of a lady and saying: As she comes in front four folds appear on her front side and as she turns her back eight folds appear on the back side. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: It seems that he knows these things; do not, therefore, allow him to cater. She (Aisha) said: Then they began to observe veil from him.
Top