سنن النسائی - کتاب الا شربة - حدیث نمبر 5711
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاکٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَمَّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّی أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ
رضاعت کی حرمت میں مرد کی تاثیر کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کا رضاعی چچا جسے افلح کہا جاتا تھا نے مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگی تو میں نے ان سے پردہ کیا رسول اللہ ﷺ کو میں نے اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے پردہ نہ کر کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that her foster-uncle whose name was Aflah sought permission from her (to enter the house) but she observed seclusion from him, and informed Allahs Messenger ﷺ who said to her: Dont observe veil from him for he is Mahram (one with whom marriage cannot be contracted) on account of fosterage as one is Mahram on account of consanguinity.
Top