شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی ؓ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چناچہ میں علی ؓ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: انظر: ما قبلہ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: مالک سے مشہور یہ روایت ہے کہ مسح کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک چاہے مسح کرے، ان کی دلیل ابی بن عمارہ ؓ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے لیکن وہ ضعیف ہے، لائق استدلال نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 129