Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (93 - 533)
Select Hadith
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
287
288
289
290
291
292
293
294
295
296
297
298
299
300
301
302
303
304
305
306
307
308
309
310
311
312
313
314
315
316
317
318
319
320
321
322
323
324
325
326
327
328
329
330
331
332
333
334
335
336
337
338
339
340
341
342
343
344
345
346
347
348
349
350
351
352
353
354
355
356
357
358
359
360
361
362
363
364
365
366
367
368
369
370
371
372
373
374
375
376
377
378
379
380
381
382
383
384
385
386
387
388
389
390
391
392
393
394
395
396
397
398
399
400
401
402
403
404
405
406
407
408
409
410
411
412
413
414
415
416
417
418
419
420
421
422
423
424
425
426
427
428
429
430
431
432
433
434
435
436
437
438
439
440
441
442
443
444
445
446
447
448
449
450
451
452
453
454
455
456
457
458
459
460
461
462
463
464
465
466
467
468
469
470
471
472
473
474
475
476
477
478
479
480
481
482
483
484
485
486
487
488
489
490
491
492
493
494
495
496
497
498
499
500
501
502
503
504
505
506
507
508
509
510
511
512
513
514
515
516
517
518
519
520
521
522
523
524
525
526
527
528
529
530
531
532
533
سنن النسائی - - حدیث نمبر 4207
ریاء کی قسمیں
ریاء کی مختلف اقسام اور صورتیں ہیں اور ان اقسام میں سب سے زیادہ بری اور نہایت قابل نفریں وہ قسم ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قصد اور حصول ثواب کا ارادہ قطعا نہ ہو بلکہ واحد مقصد لوگوں کو دکھانا اور ان کی نظر میں قدر و منزلت حاصل کرنا، جیسا کہ خالص ریاء کار بلکہ دھوکا باز لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں تو نماز پڑھتے ہیں اور مختلف قسم کے اوراد و وظائف میں مشغول رہتے ہیں، لیکن جب تنہا ہوتے ہیں تو نہ نماز سے سروکار رکھتے ہیں اور نہ اوراد وظائف سے بلکہ ان بدنصیبوں کی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نماز میں بغیر پاکی اور وضو کے ہی کھڑے ہوجاتے ہیں ریاء کاری کی یہ قسم ارذل ترین اور اللہ تعالیٰ کے سخت غضب وقہر کے نازل ہونے کا باعث ہے اور اس صورت میں کیا جانے والا کوئی بھی عمل قطعی باطل ہوتا ہے، بلکہ بعض حضرات نے تو یہاں تک کہا ہے اگر وہ عمل فرض ہو تو اس کا کرنا فرض کے ادا ہوجانے کے حکم میں نہیں ہوگا بلکہ اس کی قضا واجب ہوگی دوسری قسم وہ صورت ہے جس میں کسی نیک عمل کرنے میں دونوں چیزیں ہوں یعنی ارادہ ثواب بھی اور ریاء کاری بھی (دکھانے کی نیت) لیکن ریا کا پہلو غالب ہو اور ارادہ ثواب کا پہلو ضعیف ہو، بایں حیثیت کہ اگر اس عمل کو کرنے والا تنہائی میں ہوتا تو اس عمل کو نہ کرتا اور اس کا قصد اس عمل کے صدور کا باعث نہ ہوتا اور اگر بالفرض اس عمل کا ثواب کوئی نہ ہوتا تو بھی محض ریاء کاری کا جذبہ ہی اس عمل کو اختیار کرنے کا باعث بن جاتا، اس قسم کا بھی وہی حکم ہے جو پہلی قسم کا ہے۔ تیسری قسم وہ صورت ہے جس میں کسی نیک عمل کو اختیار کرنے میں دونوں چیزیں یعنی ریاء کاری کا جذبہ اور حصول ثواب کا ارادہ برابر ہوں، بایں حیثیت کہ اگر بالفرض وہ عمل ان دونوں چیزوں میں سے بھی ایک چیز سے خالی ہوتا تو اس کو اختیار کرنے کا کوئی داعیہ پیدا نہ ہوتا بلکہ اس عمل کی طرف رغبت اسی صورت میں ہوتی جب کہ دونوں چیزیں ایک ساتھ پائی جاتی۔ اس قسم کے بارے میں بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نفع، نقصان، دونوں برابر ہوں، لیکن احادیث و آثار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قسم بھی مذموم اور اس صورت میں کیا جانے والا عمل بھی ناقابل قبول ہوتا ہے اور چوتھی قسم وہ صورت ہے کہ جس میں کسی نیک عمل کو اختیار کرنے میں، ثواب کی نیت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ، راجح اور غالب ہو اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قسم نہ تو محض باطل ہے اور نہ اس میں کوئی نقصان ہے، یا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے۔ کہ اس صورت میں اختیار کیا جانے والا عمل نیت و ارادہ کے اعتبار سے ثواب اور عتاب دونوں کا یکساں طور پر باعث ہوتا ہے کہ ارادہ و نیت میں جس قدر اخلاص یا عدم اخلاص ہوگا اسی کے مطابق ثواب یا عتاب ہوگا، نیز اس صورت میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قصد عمل میں ریاء کاری کی جو آمیزش ہے (جو اگرچہ ثواب کے ارادہ ونیت سے کمتر اور ضعیف ہے) وہ کب پیدا ہوئی ہے؟ اگر ریاء کاری کی آمیزش ابتداء عمل میں ہوئی ہے تو یہ صورت زیادہ بری کہلائے گی اور اگر عمل کے درمیان پیدا ہوئی ہے تو یہ صورت پہلی صورت سے کم برائی کی حامل ہوگی اور اگر یہ عمل کرنے کے بعد آئی ہے تو یہ صورت دوسرے صورت سے بھی کم تر قرار دی جائے گی اور اس کی وجہ سے اختیار کیا جانے والا عمل باطل نہیں کہلائے گا۔ علاوہ ازیں ایک فرق یہ بھی ملحوظ رکھا جائے گا کہ ریاء کاری کا وہ جذبہ اگر پختہ قصد و عزم کی صورت میں نمودار ہوا ہے تو اس میں زیادہ برائی ہوگی اور اگر محض ایک خیال کی صورت میں پیدا ہو اور اس خیال ہی کی حد تک محدود رہا، آگے کچھ نہ ہوا تو یہ صورت حال یقینا زیادہ نقصان دہ نہیں کہلائے گی۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ریاء ایک ایسا جذبہ ہے جس سے پوری طرح خلاصی نہایت دشوار ہے اور ہر حالت میں حقیقی اخلاص کا پایا جانا بہت مشکل، اسی لئے علماء نے یہاں تک لکھا ہے کہ کسی کے منہ سے اپنی تعریف سن کر خوش ہونا ریاء کے پائے جانے کی علامت ہے، اسی طرح تنہائی میں کوئی عمل کرتے وقت بھی دل میں ریاء کا خیال آجائے تو وہ بھی ریاء ہی کہلائے گا۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے اور بہر صورت اخلاص عطا فرمائے کہ اس کی مدد و توفیق کے بغیر اس دولت کا ملنا ممکن ہی نہیں ہے۔ علماء نے ایک خاص صورت وحالت اور بیان کی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص کوئی نیک کام کرے اور کسی عبادت وطاعت میں مصروف ہو اور لوگ اس کو وہ نیک کام اور عبادت وطاعت کرتا ہوا دیکھ لیں تو اس کو چاہئے کہ اس وقت اپنے اندر اس وقت اس بات پر خوشی ومسرت کے جذبات پیدا کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور لطف و عنایت سے نیک عمل کی توفیق عطا فرمائی اور لوگوں کی نظر باعزت بنانے کا یہ سبب پیدا فرمایا کہ گناہوں اور عیوب کی تو پردہ پوشی فرمائی اور نیک اعمال و اخلاق کو آشکارا فرمایا اور ان جذبات مسرت کے ساتھ یہ نیت وقصد رکھے کہ اگر میرے نیک عمل کے اظہار سے دین و طاعات کا چرچہ ہوتا ہے تو لوگ دین کی طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر بھی نیک اعمال کو اختیار کرنے کا داعیہ پیدا ہوگا۔ یہ چیز نہ صرف یہ کہ ریاء کے حکم میں داخل نہیں ہوگی، بلکہ اس کو محمود ومستحسن بھی کہا جائے گا جیسا کہ اس سلسلے میں وارد احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مسئلہ بہت دقیق وپیچیدہ ہے اور اپنے اندر بہت تفصیل و مباحث رکھتا ہے، اگر اس کی تحقیق زیادہ وضاحت کے ساتھ جاننی ہو تو اہل اللہ اور عارفین کی کتابوں اور ان کے اقوال وملفوظات سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئے، خصوصا مشہور کتاب احیاء العلوم اس سلسلے میں زیادہ بہتر رہبری کرسکتی ہے۔
Top