صحيح البخاری - - حدیث نمبر 277
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَدْرَکْتُ رَجُلًا فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِکَ فَذَکَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنْ السِّلَاحِ قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّی تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّی يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَيَکُونَ الدِّينُ کُلُّهُ لِلَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّی تَکُونُ فِتْنَةٌ
اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمد، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، اعمش، ابوظبیان، اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (جنگ) میں بھیجا تو ہم صبح صبح جہینہ کے علاقہ میں پہنچ گئے میں نے وہاں ایک آدمی کو پایا اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ، میں نے اسے ہلاک کردیا پھر میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہوا کہ میں نے مسلمان کو قتل کیا یا کافر کو؟ تو میں نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے تو یہ کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا کہ اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں، آپ ﷺ باربار یہی کلمات دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ تمنا ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا حضرت سعد ؓ نے کہا اللہ کی قسم میں مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک کہ اس کو اسامہ قتل کردیں ایک آدمی نے کہا کہ کیا اللہ عز وجل نے نہیں فرمایا کافروں سے اس وقت تک قتال کرو جب تک کہ فتنہ نہ رہے اور اللہ کا دین عام ہوجائے حضرت سعد ؓ نے کہا کہ ہم فتنہ مٹانے کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور تمہارے ساتھی فتنہ پھیلانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔
It is narrated on the authority of Usama b. Zaid that the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) sent us in a raiding party. We raided Huraqat of Juhaina in the morning. I caught hold of a man and he said: There is no god but Allah, I attacked him with a spear. It once occurred to me and I talked about it to the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ). The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: Did he profess" There is no god but Allah," and even then you killed him? I said: Messenger of Allah, he made a profession of it out of the fear of the weapon. He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) observed: Did you tear his heart in order to find out whether it had professed or not? And he went on repeating it to me till I wished I had embraced Islam that day. Sad said: By Allah, I would never kill any Muslim so long as a person with a heavy belly, i. e., Usama, would not kill. Upon this a person remarked: Did Allah not say this: And fight them until there is no more mischief and religion is wholly for Allah? Sad said: We fought so that there should be no mischief, but you and your companions wish to fight so that there should be mischief.
Top