Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5385 - 5586)
Select Hadith
5385
5386
5387
5388
5389
5390
5391
5392
5393
5394
5395
5396
5397
5398
5399
5400
5401
5402
5403
5404
5405
5406
5407
5408
5409
5410
5411
5412
5413
5414
5415
5416
5417
5418
5419
5420
5421
5422
5423
5424
5425
5426
5427
5428
5429
5430
5431
5432
5433
5434
5435
5436
5437
5438
5439
5440
5441
5442
5443
5444
5445
5446
5447
5448
5449
5450
5451
5452
5453
5454
5455
5456
5457
5458
5459
5460
5461
5462
5463
5464
5465
5466
5467
5468
5469
5470
5471
5472
5473
5474
5475
5476
5477
5478
5479
5480
5481
5482
5483
5484
5485
5486
5487
5488
5489
5490
5491
5492
5493
5494
5495
5496
5497
5498
5499
5500
5501
5502
5503
5504
5505
5506
5507
5508
5509
5510
5511
5512
5513
5514
5515
5516
5517
5518
5519
5520
5521
5522
5523
5524
5525
5526
5527
5528
5529
5530
5531
5532
5533
5534
5535
5536
5537
5538
5539
5540
5541
5542
5543
5544
5545
5546
5547
5548
5549
5550
5551
5552
5553
5554
5555
5556
5557
5558
5559
5560
5561
5562
5563
5564
5565
5566
5567
5568
5569
5570
5571
5572
5573
5574
5575
5576
5577
5578
5579
5580
5581
5582
5583
5584
5585
5586
صحیح مسلم - صلہ رحمی کا بیان - حدیث نمبر 6603
وعن عباس قال : شهدت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين فلما التقى المسلمون والكفار ولى المسلمون مدبرين فطفق رسول الله صلى الله عليه و سلم يركض بغلته قبل الكفار وأنا آخذ بلجام بغلة رسول الله صلى الله عليه و سلم أكفها إرادة أن لا تسرع وأبو سفيان آخذ بركاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أي عباس ناد أصحاب السمرة فقال عباس وكان رجلا صيتا فقلت بأعلى صوتي أين أصحاب السمرة فقال والله لكأن عطفتهم حين سمعوا صوتي عطفة البقر على أولادها فقالوا يا لبيك يا لبيك قال فاقتتلوا والكفار والدعوة في الأنصار يقولون يا معشر الأنصار يا معشر الأنصار قال ثم قصرت الدعوة على بني الحارث بن الخزرج فنظر رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على بغلته كالمتطاول عليها إلى قتالهم فقال حين حمي الوطيس ثم أخذ حصيات فرمى بهن وجوه الكفار ثم قال انهزموا ورب محمد فوالله ما هو إلا أن رماهم بحصياته فما زلت أرى حدهم كليلا وأمرهم مدبرا . رواه مسلم
غزوئہ حنین کا معجزہ
اور حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا ( ایک موقع پر) جب کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان شدید خون ریزی ہوئی تو پشت دے کر مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے ( یہ نازک صورت حال دیکھ کر) رسول کریم ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑی لگانا اور ( بلا خوف) کفار کی طرف بڑھنا شروع کیا، اس وقت میں تو رسول کریم ﷺ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا اور اس خیال سے اس کو روک رہا تھا کہ کہیں وہ تیزی کے ساتھ کافروں میں نہ جا گھسے اور ( آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی) ابوسفیان بن حارث ( جن کا اصلی نام مغیرہ بن حارث بن عبد المطلب تھا، اظہار عقیدت و محبت اور محافظت کے طور پر) رسول کریم ﷺ کی رکاب تھامے ہوئے تھے، اسی دوران رسول کریم ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ عباس! اصحاب سمرہ کو آواز دو! حضرت عباس ؓ جو ایک بلند آواز آدمی تھے کہتے ہیں کہ میں نے ( آنحضرت ﷺ کے حکم پر پکار کر کہا کہاں ہیں اصحاب سمرہ!!؟ ( کیا تم اپنی وہ بیعت بھول رہے ہو جو تم نے آنحضرت ﷺ کی مدد و حفاظت کے لئے درخت کے نیچے کی تھی!؟ حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ( میری یہ پکار سن کر) اصحاب سمرہ اس طرح لوٹے اور دوڑتے ہوئے آئے) جیسے گائیں ( فرد محبت واشتیاق سے) اپنے بچوں کی طرف ( دوڑتی ہوئی) لوٹ کر آتی ہے) اور وہ ( اصحاب سمرہ) کہہ رہے تھے اے قوم ہم حاضر ہیں، اے قوم ہم حاضر ہیں۔ اس کے بعد مسلمان از سر نو ہمت اور جوش کے ساتھ ( کافروں سے بھڑ گئے۔ اور انصار صحابہ) نے آپس میں ایک دوسرے کو بلانے اور حوصلہ دلانے کے لئے غازیوں کی مانند) اس طرح پکارنا شروع کیا کہ اے گروہ انصار! اے گروہ انصار! ہمت سے کام لو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو) پھر یہ پکارنا قبیلہ بنو حارث بن خزرج تک محدود ہوگیا ( یعنی صرف اولاد حارث ہی کو، جو انصار کا سب سے بڑا قبیلہ ہے، اے اولاد حارث اے اولاد حارث کہہ کر پکارا جانے لگا) اس دوران رسول کریم ﷺ نے، جو اپنے خچر پر ایک طاقتور اور قابو یافتہ سوار کی طرح جمے ہوئے تھے، لڑتے ہوئے مسلمانوں پر نظر ڈالی ( اور بعض حضرات نے کالمتطاول کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جو خچر پر گردن اونچی کر کے دیکھنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے، یعنی جس طرح کوئی اپنے سے دور کسی چیز کو دیکھنے کے لئے گردن اونچی کر کے نگاہ ڈالتا ہے اسی طرح آپ ﷺ نے کچھ کنکریاں ہاتھ میں اٹھائیں اور شاہت الوجوہ کہتے ہوئے ان کنکریوں کو کافروں کے منہ پر پھینک مارا اور ( یا تو از راہ تفاول یا پیش خبری کے طور پر) فرمایا رب محمد ﷺ کی قسم کافروں کو شکست ہوگئی۔ ( حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ) اللہ کی قسم! یہ شکست جو کافروں کو ہوئی صرف آپ ﷺ کی کنکریاں پھینکنے کے سبب ہوئی ( کنکریاں پھینکنے کے بعد آخر تک) برابر دیکھتا رہا کہ کافروں کی تیزی اور شدت سے چلنے والی تلواریں ہلکی اور کند پڑ رہی تھیں اور ان کا انجام ذلت و خواری سے بھرا ہوا تھا۔
تشریح
حنین مکہ اور طائف کے درمیان عرفات سے آگے ایک مقام کا نام ہے جہاں فتح مکہ کے بعد شوال سن ٨ ھ میں مسلمانوں اور اس علاقہ میں آباد مشہور قبائل ہو ازن وثقیف کے درمیان زبر دست جنگ ہوئی تھی، ابتداء جنگ میں مسلمانوں کو دشمن فوج کی طرف سے صبح کا ذب کی تاریکی میں اتنے سخت وشدید اور اچانک حملہ کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ ( مسلمان) سراسیمہ ہو کر رہ گئے اور سب سے پہلے اہل مکہ میں سے وہ لوگ جو بالکل نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، حو اس باختہ ہو کر بھاگے تو ان کو دیکھ کر انصار و مہاجر صحابہ بھی سخت پریشانی میں ادھر ادھر منتشر ہونے لگے وہ دراصل مدد اور تحفظ چاہنے کے لئے لوٹ لوٹ کر آنحضرت ﷺ کے پاس آرہے تھے لیکن اس افرا تفری میں محسوس یہ ہو رہا تھا کہ مسلمان پشت دے کر بھاگ رہے ہیں، جب کہ درحقیقت نہ انہوں نے پشت دکھائی تھی اور نہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، بہر حال مسلمانوں میں اس طرح کی ہلچل اور افراتفری ضرور پیدا ہوگئی تھی جس سے جنگ کا نقشہ مسلمانوں کے خلاف بھی ہوسکتا تھا لیکن آنحضرت ﷺ کی انتہائی شجاعت و استقلال، نہایت کامیاب حکمت عملی اور اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت نے تھوڑی ہی دیر بعد مسلمانوں کو سنبھال لیا اور دشمنوں کو شکست فاش کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس جنگ میں آنحضرت ﷺ جس خچر پر سوار تھے اس کا نام دلدل تھا اور فروہ ابن نفاثہ نے، جو ایک مشرک تھا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تحفۃ بھیجا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ مشرکوں کا ہدیہ قبول کیا جاسکتا ہے، لیکن جیسا کہ احادیث میں منقول ہے آنحضرت ﷺ نے بعض مشرکوں کے ہدیئے رد کر دئیے تھے، لہٰذا بعض حضرات نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کا ( دلدل) ہدیہ کا قبول کرلینا اس عمل کا ناسخ ہے کہ آپ ﷺ نے بعض مشرکوں کا ہدیہ قبول نہیں کیا تھا، لیکن یہ قول محل نظر ہے، کیونکہ تاریخ کے تعین کے ساتھ یہ بات ثابت نہیں ہے کہ قبول کرنے کا واقعہ پہلے کا ہے یا رد کرنے کا واقعہ پہلے پیش آیا تھا؟ نیز اکثر حضرات کا قول یہ ہے کہ رد منسوخ نہیں ہے، آپ ﷺ نے جو قبول کیا تو اس مشرک کا ہدیہ قبول کیا جس کے مسلمان ہوجانے کی توقع اور جس کے ذریعہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید آپ ﷺ کو تھی اور جن مشرکوں کا معاملہ اس کے برعکس تھا ان کا ہدیہ آپ ﷺ نے رد کردیا۔ سمرہ کیکر کے درخت کو کہتے ہیں، حدیبیہ میں آپ ﷺ نے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جس درخت کے نیچے جان نثاری کی بیعت لی تھی وہ کیکر کا درخت تھا اس بیعت کو بیعت الرضوان اور جن صحابہ سے بیعت لی گئی ان کو اصحاب سمرہ کہا جاتا ہے۔ اصحاب سمرہ کو آواز دے دو سے آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے اور جنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کو آواز دے کر کہو یہی وقت تمہاری آزمائش کا ہے اللہ کی راہ میں اور میری حمایت و حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کردینے کا تم نے جو عہد کیا تھا اب اس کو پورا کرنے کے لئے پہنچو۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے دو معجزوں کا ذکر ہے، ایک تو یہ کہ آپ ﷺ نے پہلے سے خبر دے دی کہ کفار کو شکت ہوگئی اور دوسرا معجزہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے کنکریاں اٹھا کر دشمن کے منہ پر پھینکیں تو وہ میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
Top