صحیح مسلم - جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان - حدیث نمبر 7175
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ.
برتن سے وضو کے متعلق فرمان نبوی ﷺ
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی حالت میں دیکھا کہ عصر کا وقت قریب ہوگیا تھا، تو لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر وہ پانی نہیں پا سکے، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تھوڑا سا وضو کا پانی لایا گیا، تو آپ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا، اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ ﷺ کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا ہے، حتیٰ کہ ان کے آخری آدمی نے بھی وضو کرلیا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ٣٢ (١٦٩)، المناقب ٢٥ (٣٥٧٣)، صحیح مسلم/الفضائل ٣ (٢٢٧٩)، سنن الترمذی/المناقب ٦ (٣٦٣١)، موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٣٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٠)، مسند احمد ٣/١٣٢، ١٤٧، ١٧٠، ٢١٥، ٢٨٩، نحوہ، ویأتي عند المؤلف برقم: ٧٨ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یہ رسول اللہ ﷺ کا ایک معجزہ تھا، دوسری روایت میں ہے کہ یہ کل تین سو آدمی تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایک ہزار پانچ سو آدمی تھے واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 76
Top