صحیح مسلم - - حدیث نمبر 611
حدیث نمبر: 1568
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ فِيهِفِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَتِ الْغَنَمُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمِائَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وقَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قُسِّمَتِ الشَّاءُ أَثْلَاثًا ثُلُثًا شِرَارًا، ‏‏‏‏‏‏وَثُلُثًا خِيَارًا، ‏‏‏‏‏‏وَثُلُثًا وَسَطًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِوَلَمْ يَذْكُرْ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ.
چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے زکاۃ کی کتاب لکھی، لیکن اسے اپنے عمال کے پاس بھیج نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی، آپ نے اسے اپنی تلوار سے لگائے رکھا پھر اس پر ابوبکر ؓ نے عمل کیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر عمر ؓ نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا، اس کتاب میں یہ تھا: پا نچ (٥) اونٹ میں ایک (١) بکری ہے، دس (١٠) اونٹ میں دو (٢) بکریاں، پندرہ (١٥) اونٹ میں تین (٣) بکریاں، اور بیس (٢٠) میں چار (٤) بکریاں ہیں، پھر پچیس (٢٥) سے پینتیس (٣٥) تک میں ایک بنت مخاض ہے، پینتیس (٣٥) سے زیادہ ہوجائے تو پینتالیس (٤٥) تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس (٤٥) سے زیادہ ہوجائے تو ساٹھ (٦٠) تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ (٦٠) سے زیادہ ہوجائے تو پچہتر (٧٥) تک ایک جذعہ ہے، جب پچہتر (٧٥) سے زیادہ ہوجائے تو نوے (٩٠) تک دو بنت لبون ہیں، جب نوے (٩٠) سے زیادہ ہوجائیں تو ایک سو بیس (١٢٠) تک دو حقے ہیں، اور جب اس سے بھی زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس (٥٠) پر ایک حقہ اور ہر چالیس (٤٠) پر ایک بنت لبون واجب ہے۔ بکریوں میں چالیس (٤٠) سے لے کر ایک سو بیس (١٢٠) بکریوں تک ایک (١) بکری واجب ہوگی، اگر اس سے زیادہ ہوجائیں تو دو سو (٢٠٠) تک دو (٢) بکریاں ہیں، اس سے زیادہ ہوجائیں تو تین سو (٣٠٠) تک تین (٣) بکریاں ہیں، اگر اس سے بھی زیادہ ہوجائیں تو ہر سو (١٠٠) بکری پر ایک (١) بکری ہوگی، اور جو سو (١٠٠) سے کم ہو اس میں کچھ بھی نہیں، زکاۃ کے ڈر سے نہ جدا مال کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال کو جدا کیا جائے اور جو مال دو آدمیوں کی شرکت میں ہو وہ ایک دوسرے سے لے کر اپنا اپنا حصہ برابر کرلیں، زکاۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے گا ۔ زہری کہتے ہیں: جب مصدق (زکاۃ وصول کرنے والا) آئے تو بکریوں کے تین غول کریں گے، ایک غول میں گھٹیا درجہ کی بکریاں ہوں گی دوسرے میں عمدہ اور تیسرے میں درمیانی درجہ کی تو مصدق درمیانی درجہ کی بکریاں زکاۃ میں لے گا، زہری نے گایوں کا ذکر نہیں کیا۔
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الزکاة ٤ (٦٢١)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة ٩ (١٧٩٨)، موطا امام مالک/الزکاة ١١ (٢٣) (وجادةً )، سنن الدارمی/الزکاة ٦ (١٦٦٦)، مسند احمد (٢/١٤، ١٥) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین زہری سے روایت میں ثقہ نہیں ہیں )
Top