مسند امام احمد - حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کی مرویات - 1567
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصِبْ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ
حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں اپنے چچاؤں کے ساتھ جبکہ ابھی میں نوعمر تھا حلف المطیبیب جسے حلف الفضول بھی کہا جاتا ہے میں شریک ہوا تھا، مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس معاہدے کو توڑ ڈالوں اگرچہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی دیئے جائیں، امام زہری (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ اسلام نے جو بھی معاہدہ کیا اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوا ہے اور اسلام اس کا قائل نہیں ہے، البتہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات قائم فرما دی تھی۔
Top