مسند امام احمد - حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات - حدیث نمبر 22047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمٍ أَوْ بِيَوْمَيْنِ أَعْطَوْا جَذَعَيْنِ وَأَخَذُوا ثَنِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مِمَّا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ
متعدد صحابہ کرام ؓ کی مرویات
مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ بقر عید ایک دو دن قبل صحابہ کرام ؓ چھ ماہ کے دو بھیڑ دے کر پورے سال کا ایک جانور لے لیتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کی طرف سے ایک سال کا جانور کفایت کرتا ہے چھ ماہ کا بھی اس کی طرف سے کفایت کرجاتا ہے۔
Top