مسند امام احمد - حضرت محرش کعبی کی بقیہ حدیث۔ - 14973
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنْ الْجِعْرَانَةِ حِينَ أَمْسَى مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَكَّةَ لَيْلًا فَقَضَى عُمْرَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ خَرَجَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى جَامَعَ الطَّرِيقُ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ بِسَرِفَ قَالَ مُحَرِّشٌ فَلِذَلِكَ خَفِيَتْ عُمْرَتُهُ عَلَى كَثِيرٍ مِنْ النَّاسِ
حضرت محرش سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جعرانہ سے رات کے وقت عمرہ کی نیت سے نکلے رات ہی کو مکہ مکرمہ پہنچے عمرہ کیا اور رات ہی کو وہاں سے نکلے اور جعرانہ لوٹ آئے صبح ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات یہیں گذاری ہے جب سورج ڈھل گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جعرانہ سے نکل کر بطن سرف میں آئے اور مدینہ جانے والے راستے پر ہولیے اسی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمرے کا حال لوگوں سے مخفی رہا۔
Top