مسند امام احمد - حضرت اسماء بنت یزید کی حدیثیں - حدیث نمبر 26342
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ضِرْسٍ وَلَا ذَاتُ ظِلْفٍ مِنْ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ وَإِنَّ أَشَدَّ فِتْنَتِهِ أَنْ يَأْتِيَ الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولَ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ قَالَ فَيَقُولُ بَلَى فَتَمَثَّلَ الشَّيَاطِينُ لَهُ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا تَكُونُ ضُرُوعُهَا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً قَالَ وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ فَيَقُولُ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ بَلَى فَتَمَثَّلَ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ رَجَعَ قَالَتْ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ بِهِ قَالَتْ فَأَخَذَ بِلُجْمَتَيِ الْبَابِ وَقَالَ مَهْيَمْ أَسْمَاءُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ قَالَ وَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ قَالَتْ أَسْمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا وَاللَّهِ لَنَعْجِنُ عَجِينَتَنَا فَمَا نَخْتَبِزُهَا حَتَّى نَجُوعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ قَالَ يَجْزِيهِمْ مَا يَجْزِي أَهْلَ السَّمَاءِ مِنْ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ قَالَ ثَنَا شَهْرٌ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً يُحَدِّثُهُمْ عَنْ أَعْوَرِ الدَّجَّالِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ فَقَالَ مَهْيَمْ وَكَانَتْ كَلِمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ يَقُولُ مَهْيَمْ وَزَادَ فِيهِ فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ قَوْلِي فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ
حضرت اسماء بنت یزید کی حدیثیں
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی نے فرمایا خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہوجائے گا، اس موقع پر پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کردوں ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کرلو گے؟ وہ کہے گا ہاں! چناچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طری دجال ایک اور آدمی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کردوں تو کیا تم یقین کرلو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں، وہ کہے گا ہاں! چناچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آجائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا، پھر نبی تشریف لے آئے اور اہل خانہ رونے لگے، جب نبی واپس آئے ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی نے پوچھا تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے، واللہ میرے گھر میں جو باندی ہے، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو اس دن ہم کیا کریں گے؟ نبی نے فرمایا اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کے بجائے تکبیر اور تسبیح و تحمیدہی کافی ہوگی، پھر نبی نے فرمایا مت روؤ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں اضافہ بھی موجود ہے کہ جو شخص میری مجلس میں حاضر ہو اور میری باتیں سنے، تو تم میں سے حاضرین تک یہ باتیں پہنچادینی چاہیں اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ صحیح سالم ہیں، وہ کانے نہیں ہیں، جبکہ دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا اور ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے مومن " خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہیں " پڑھ لے گا۔
Top