مسند امام احمد - حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات - 1609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِضَيْفٍ لَهُ أَوْ بِأَضْيَافٍ لَهُ قَالَ فَأَمْسَى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَى قَالَتْ لَهُ أُمِّي احْتَبَسْتَ عَنْ ضَيْفِكَ أَوْ أَضْيَافِكَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ قَالَ أَمَا عَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ لَا قَالَتْ قَدْ عَرَضْتُ ذَاكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا أَوْ فَأَبَى قَالَ فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ أَنْ لَا يَطْعَمَهُ وَحَلَفَ الضَّيْفُ أَوْ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمُوهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ مِنْ الشَّيْطَانِ قَالَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا قَالَ فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَتْ مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا فَقَالَ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَ فَقَالَتْ قُرَّةُ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ نَأْكُلَ قَالَ فَأَكَلُوا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر (رض) کچھ مہمانوں کو لے کر آئے، خود انہوں نے شام کا وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گذارا، رات کو جب وہ واپس آئے تو والدہ نے ان سے کہا کہ آج رات آپ اپنے مہمانوں کو بھول کر کہاں رہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نے انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا، انہوں نے کہا نہیں ! میں نے تو ان کے سامنے کھانا لاکر پیش کردیا تھا لیکن انہوں نے ہی کھانے سے انکار کردیا، اس پر وہ ناراض ہوگئے اور قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گے، مہمانوں نے بھی قسم کھالی کہ وہ اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک حضرت ابوبکر (رض) نہیں کھائیں گے، جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہوگیا ہے۔ پھر انہوں نے کھانا منگوایا اور خود بھی کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا، یہ لوگ جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے، اس میں نیچے سے اضافہ ہوجاتا تھا، حضرت ابوبکر (رض) نے اپنی اہلیہ کو مخاطب کر کے فرمایا اے بنو فراس کی بہن ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے کہا اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ! یہ تو اصل مقدار سے بھی زیادہ ہوگیا ہے، چناچہ ان سب نے یہ کھانا کھایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی بھجوایا اور راوی نے ذکر کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کھانے کو تناول فرمایا۔
Top