مسند امام احمد - حضرت صخر غامدی کی احادیث کا تتمہ۔ - 15008
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا قَالَ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ
حضرت صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی اتنی کثرت ہوگئی تھی کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اپنا مال دولت کہاں رکھیں۔
Top