مسند امام احمد - وفد عبدالقیس کی بقیہ حدیث۔ - 15010
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصْرِيُّ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُمْ يَقُولُونَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَنَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَنْ سَيِّدُكُمْ وَزَعِيمُكُمْ فَأَشَرْنَا بِأَجْمَعِنَا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَذَا الْأَشَجُّ وَكَانَ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ عَلَيْهِ هَذَا الِاسْمُ بِضَرْبَةٍ لِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ أَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَهُ وَاتَّكَأَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ وَقَالُوا هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَهُ هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَعَدَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِهِ وَأَلْطَفَهُ وَسَأَلَهُ عَنْ بِلَادِهِ وَسَمَّى لَهُ قَرْيَةً قَرْيَةً الصَّفَا وَالْمُشَقَّرَ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءِ قُرَانَا مِنَّا فَقَالَ إِنِّي قَدْ وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ وَفُسِحَ لِي فِيهَا قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أَشْبَهُ شَيْئًا بِكُمْ أَشْعَارًا وَأَبْشَارًا أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ وَلَا مَوْتُورِينَ إِذْ أَبَى قَوْمٌ أَنْ يُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا قَالَ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحُوا قَالَ كَيْفَ رَأَيْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ وَضِيَافَتَهُمْ إِيَّاكُمْ قَالُوا خَيْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فِرَاشَنَا وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا وَبَاتُوا وَأَصْبَحُوا يُعَلِّمُونَا كِتَابَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَرِحَ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا فَعَرَضْنَا عَلَيْهِ مَا تَعَلَّمْنَا وَعَلِمْنَا فَمِنَّا مَنْ عَلِمَ التَّحِيَّاتِ وَأُمَّ الْكِتَابِ وَالسُّورَةَ وَالسُّورَتَيْنِ وَالسُّنَنَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ أَزْوَادِكُمْ شَيْءٌ فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِكَ وَابْتَدَرُوا رِحَالَهُمْ فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَهُ صُرَّةٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعُوهَا عَلَى نِطْعٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَوْمَأَ بِجَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ كَانَ يَخْتَصِرُ بِهَا فَوْقَ الذِّرَاعِ وَدُونَ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا التَّعْضُوضَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُرَّةٍ أُخْرَى فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الصَّرَفَانَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُرَّةٍ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الْبَرْنِيَّ قُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ خَيْرُ تَمْرِكُمْ وَأَنْفَعُهُ لَكُمْ قَالَ فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْكَ فَأَكْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْهُ وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِيهِ حَتَّى صَارَ مُعْظَمَ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِيُّ فَقَالَ الْأَشَجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبْ هَذِهِ الْأَشْرِبَةَ هِيجَتْ أَلْوَانُنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ فِي سِقَاءٍ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ رَخِّصْ لَنَا فِي مِثْلِ هَذِهِ وَأَوْمَأَ بِكَفَّيْهِ فَقَالَ يَا أَشَجُّ إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَفَرَّجَ يَدَيْهِ وَبَسَطَهَا يَعْنِي أَعْظَمَ مِنْهَا حَتَّى إِذَا ثَمِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ شَرَابِهِ قَامَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ وَكَانَ فِي الْوَفْدِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَضَلٍ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ قَدْ هُزِرَتْ سَاقُهُ فِي شَرَابٍ لَهُمْ فِي بَيْتٍ تَمَثَّلَهُ مِنْ الشِّعْرِ فِي امْرَأَةٍ مِنْهُمْ فَقَامَ بَعْضُ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ فَقَالَ الْحَارِثُ لَمَّا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أَسْدُلُ ثَوْبِي فَأُغَطِّي الضَّرْبَةَ بِسَاقِي وَقَدْ أَبْدَاهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
وفد عبدالقیس کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب ہم لوگوں کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے لئے جگہ کشادہ کردی ہم لوگ وہاں جا کر بیٹھ گئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خوش آمدید کہا ہمیں دعائیں دی اور ہمارے طرف دیکھ کر فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے ہم سب نے منذر بن عائذ کی طرف اشارہ کردیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا یہی اشج ہیں اصل میں ان کے چہرے پر گدھے کے کھر کی چوٹ کانشان تھا یہ پہلا دن تھا کہ جب ان کا یہ نام پڑا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ جی ہاں۔ اس کے بعد کچھ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنی سواریاں باندھیں سامان سمیٹا پراگندگی کو دور کیا سفر کے کپڑے اتارے عمدہ کپڑے زین کئے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مبارک پاؤں پھیلا کر پیچھے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی جب اشج قریب پہنچتے تو لوگوں نے ان کے لے جگہ کشادہ کی اور کہا اے اشج یہاں تشریف لاؤ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی سیدھے کھڑے ہوئے اور پاؤں سمیٹ لئے اور پاؤں سمیٹ لئے اور فرمایا کہ اشج یہاں آؤ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں جانب جا کر بیٹھ گئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آئے اور ان کے شہروں کے متعلق دریافت کیا اور ایک ایک بستی مثلا صفا، مشقر وغیرہ دیگر بستیوں کے نام لئے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو تو ہماری بستیوں کے نام ہم سے بھی زیادہ اچھی معلوم ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہارے علاقوں میں گیا ہوا ہوں اور وہاں میرے ساتھ کشادگی کا معاملہ رہا ہے۔
پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا اے گروہ انصار اپنے بھائیوں کا اکرام کرو یہ اسلام میں تمہارے مشابہہ ہیں ملاقات اور خوش خبری میں تمہارے سب سے زیادہ مشابہہ ہیں یہ لوگ اپنی رغبت سے بلا کسی جبرواکرہ یا ظلم کے اس وقت اسلام لائے ہیں جبکہ دوسروں لوگوں نے اسلام لانے سے انکار کردیا اور قتل ہوگئے۔ اگلے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے بھائیوں کا اکرام اور میزبانی کا طریقہ کیساپایا انہوں نے جواب دیا یہ لوگ بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں انہوں نے ہمیں نرم گرم بستر مہیا کئے بہترین کھانا کھلایا اور صبح و شام ہمیں اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سکھاتے رہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر بہت خوش ہوئے پھر ہم سب کی طرف فردا فردا متوجہ ہوئے اور ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وہ چیزیں پیش کیں جو ہم نے سیکھی تھیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ہمیں سکھائیں تھیں ہم میں سے بعض لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے التحیات، سورت فاتحہ اور ایک دو سورتیں اور کچھ سنتیں سیکھی تھیں۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف متوجہ ہوئے فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے پاس زاد راہ ہے لوگ خوشی سے اپنے اپنے خیموں کی طرف دوڑے اور ہر آدمی اپنے ساتھ کھجوروں کی تھیلی لے آیا اور لا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک دسترخوان پر رکھ دیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انے دست مبارک سے جو چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور کبھی کبھی آپ اسے اپنی کوکھ میں چباتے تھے جو ایک گز سے لمبی اور دو گز سے چھوٹی تھی سے اشارہ کرکے فرمایا کیا تم اسے تعضوص کہتے ہوں ہم نے عرض کیا جی ہاں پھر دوسری تھیلی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کیا تم اسے برنی کہتے ہو ہم نے عرض کیا جی ہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بہترین اور فائدہ مند کھجور ہے۔ ہم اپنا وہ کھانا واپس لے کر واپس آئے تو ہم نے سوچا کہ اب سب سے زیادہ اسے اگائیں گے اور اس سلسلے میں ہماری رغبت میں اضافہ ہوگیا حتی کہ ہمارے اکثر باغات میں برنی کھجور لگنے لگی اسی دوران اشج کہنے لگے یا رسول اللہ ہمارا علاقہ بنجر اور شور علاقہ ہے اگر ہم یہ مشروبات نہ پئیں تو ہمارے رنگ بدل جائیں اور پیٹ بڑھ جائیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دبائ، حنتم اور نقیر کچھ نہ پیا کرو بلکہ تمہیں اپنے مشکیزے سے پینا چاہیے۔
اشج کہنے لگے کہ یا رسول اللہ میری ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہمیں اتنی مقدار کی دونوں ہتھیلیوں سے اشارہ کرکے فرمایا اجازت دیدیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھوں کی ہتھلیوں سے اشارہ کرکے فرمایا اگر میں تمہیں اتنی مقدار کی اجازت دیدوں تو تم اتنی مقدار پینے لوگ گے یہ کہہ کر آپ نے ہاتھوں کی کشادگی ظاہر کی مطلب یہ تھا کہ اس مقدار سے آگے نکل جاؤ گے جب تم میں سے کوئی شخص نشے سے مد ہوش ہوجائے گا تو اپنے ہی چچازاد کی طرف تلوار بڑھ کر تلوار سے اس کی پنڈلی کاٹ دے گا۔ دراصل اس وفد میں ایک آدمی تھا جس تعلق بنوعصر سے تھ اور اس کا نام حارث تھا اس کی پنڈلی ایسے ہی ایک موقع پر کٹ گئی تھی جبکہ انہوں نے ایک گھر میں اپنے ہی قبیلے کی ایک عورت کے متعلق اشعار کہتے ہوئے شراب پی تھی اور اسی دوران اہل خانہ میں سے ایک شخص نے نشے سے مد ہوش کر اس کی پنڈلی کاٹ دی تھی حارث کا کہنا تھا کہ جب میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے یہ جملہ سنا تو میں اپنی پنڈلی پر کپڑ اڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کرنے لگا جسے اللہ نے ظاہر کردیا تھا۔
Top