مسند امام احمد - حضرت ابوہاشم بن عتبہ کی حدیث۔ - 15111
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ قَالَ فَبَكَى قَالَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ فَكُلًّا لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا هَاشِمٍ إِنَّهَا عَلَّهَا تُدْرِكُ أَمْوَالًا لَا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ يَبْكِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لئے گئے حضرت ابو ہاشم رونے لگے حضرت معاویہ نے پوچھا کہ ماموں جان کیوں رو رہے ہو کسی جگہ درد ہو رہا ہے یا دنیا کی زندگی مزید چاہتے ہو انہوں نے فرمایا دونوں میں سے کوئی بات نہیں ہے البتہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے ایک وعدہ لیا تھا اور فرمایا تھا اے ابوہاشم ہوسکتا ہے کہ تمہیں اتنامال دولت عطا ہو جو بہت سی اقوام کو نہ مل سکے لیکن مال جمع کرنے میں تمہارے لئے ایک خادم اور اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے ایک سواری ہی کافی ہونی چاہیے لیکن اب میں دیکھ رہاہوں کہ میں نے بہت سامال جمع کرلیا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top