مسند امام احمد - حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ - 15159
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ
حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت صدیق اکبر کے دور باسعادت میں وعظ گوئی کا رواج نہ تھا سب سے پہلے وعظ گوئی کرنے والے حضرت تمیم داری تھے انہوں نے حضرت عمر سے لوگوں میں کھڑے ہو کر وعظ گوئی کی اجازت مانگی اور حضرت عمر نے انہیں اجازت دیدی۔
Top